برصغیر پاک و ہند کے دیہی مناظر کا سب سے پرشکوہ، سایہ دار اور دیومالائی درخت "برگد" (جسے پنجابی میں بوہڑ اور سنسکرت میں وٹ ورکش کہا جاتا ہے) ہے۔ یہ محض ایک درخت نہیں ہوتا بلکہ اپنی شاخوں سے سینکڑوں نئے تنے اگا کر ایک چلتا پھرتا پورا جنگل بن جاتا ہے۔
فضائی جڑیں (Prop Roots) کا کمال
جب برگد کی شاخیں لمبی اور وزنی ہو جاتی ہیں تو ان سے داڑھی کی مانند باریک لٹیں نیچے کی طرف لٹکنا شروع ہوتی ہیں۔ جیسے ہی یہ لٹیں زمین کو چھوتی ہیں، یہ مٹی کے اندر جڑیں قائم کر لیتی ہیں اور چند ہی سالوں میں ایک موٹے تنے کا روپ دھار لیتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اصل مرکزی تنا اگر سوکھ بھی جائے، تب بھی یہ فضائی تنے درخت کو صدیوں تک زندہ رکھتے ہیں۔
ماحولیاتی مسافر خانہ
برگد کا ایک تناور درخت ہزاروں جانداروں کے لیے ایک پناہ گاہ ہوتا ہے:
- اس کے چھوٹے سرخ پھل درجنوں اقسام کے پرندوں (طوطے، مینا، فاختہ) اور چمگادڑوں کی پسندیدہ خوراک ہیں۔
- اس کی گھنی چھاؤں کے نیچے گرمیوں کی دوپہر میں درجہ حرارت عام ماحول سے 5 سے 8 ڈگری تک کم ہوتا ہے۔
- قدیم زمانوں میں جب سڑکیں نہیں ہوتی تھیں تو مسافر قافلے انہی بوہڑ کے درختوں تلے راتیں گزارتے تھے۔