زیتون محض ایک پھل دار درخت نہیں بلکہ امن، وقار، برکت اور انسانی صحت کی ایک ہزار سالہ داستان ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ التین میں اللہ تعالیٰ نے "التِّينِ وَالزَّيْتُونِ" (قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی) فرما کر اس درخت کو لازوال عظمت بخشی ہے اور سورۃ النور میں اسے "شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ" (نہایت مبارک درخت) قرار دیا گیا ہے۔
غیر معمولی لچک اور بقاء
زیتون کے درخت کی سب سے بڑی صفت اس کی بے مثال جفاکشی ہے۔ اس کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک پھیل جاتی ہیں جس کے سبب یہ شدید خشک سالی، سنگلاخ چٹانوں اور سالہا سال بارش نہ ہونے کے باوجود ہرا بھرا رہتا ہے۔ اگر تنے کو کاٹ دیا جائے تو کچھ ہی عرصے بعد اس کے بنیادی تنے سے نئے پودے جنم لے لیتے ہیں۔
زیتون کے تیل کے طبی فوائد (Liquid Gold)
قدیم یونانی فلسفی ہومر نے زیتون کے تیل کو "سیال سونا" (Liquid Gold) کہا تھا۔ جدید طبی تحقیقات نے تصدیق کی ہے کہ ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل:
- دل کی شریانوں کو بند ہونے سے روکتا ہے اور اچھے کولیسٹرول (HDL) کو بڑھاتا ہے۔
- اس میں موجود پولی فینولز اور اولیوکینتھل کینسر کے خلیات کے خلاف قدرتی ڈھال کا کام کرتے ہیں۔
- دماغی صلاحیت، حافظے اور الزائمر کی بیماری سے حفاظت فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں زیتون کا انقلاب
حالیہ برسوں میں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور خطہ پوٹھوہار (چکوال، تلہ گنگ) میں لاکھوں جنگلی زیتون کے درختوں کی گرافٹنگ کی گئی ہے اور اب پاکستان بہترین کوالٹی کا قدرتی زیتون کا تیل برآمد کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔