جب ہم پھول کا تصور کرتے ہیں تو دل میں نرم و نازک پنکھڑیاں اور مسحور کن خوشبو ابھرتی ہے، مگر انڈونیشیا کے بارانی جنگلات میں اگنے والا "رافلیسیا آرنولڈی" (Rafflesia arnoldii) پھولوں کی تمام روایتی تعریفوں کو الٹ دیتا ہے۔ یہ روئے زمین پر کھلنے والا دنیا کا سب سے وزنی اور بڑا اکیلا پھول ہے، جس کی بدبو اتنی بھیانک ہوتی ہے کہ انسان کے قدم لڑکھڑا جائیں۔
بغیر پتوں، تنے اور جڑوں کا بھوتیا پودا
نباتیات کی دنیا میں رافلیسیا ایک مکمل حیاتیاتی معمہ ہے۔ اس پودے کی نہ تو کوئی جڑیں ہوتی ہیں، نہ تنا اور نہ ہی کوئی سبز پتا۔ اس میں فوٹو سنتھیسس (روشنی سے خوراک بنانا) کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔ یہ جنگل کی ایک خاص جنگلی بیل (Tetrastigma) کے اندر باریک دھاگوں کی صورت میں چھپا رہتا ہے اور اس کی تمام غذا چوری کرتا ہے۔ جب پھول کھلنے کا وقت آتا ہے تو یہ میزبان بیل کی چھال پھاڑ کر گوبھی کے پھول کی طرح ایک دیو قامت کلی باہر نکالتا ہے۔
ایک میٹر چوڑا گوشت کا راکشس
کلی کو مکمل کھلنے میں 9 ماہ سے 1 سال کا طویل عرصہ لگتا ہے۔ جب یہ کھلتا ہے تو اس کا قطر 3 فٹ (100 سینٹی میٹر) سے زیادہ ہوتا ہے اور وزن 10 سے 11 کلوگرام بنتا ہے۔ اس کی موٹی اینٹ جیسی سرخ پنکھڑیوں پر سفید رنگ کے ابھار ہوتے ہیں جو کچے گوشت سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔
"انڈونیشیا میں مقامی لوگ اسے «پوسپا پیسونا» یا «مردہ پھول» کہتے ہیں کیونکہ کھلتے ہی اس سے سڑے ہوئے جانور کے گوشت کی سخت بو اٹھتی ہے۔"
مکھیاں اور دھوکے کی پولینیشن
اس خوفناک بو کا مقصد کسی کو ڈرانا نہیں بلکہ جنگل کی گوشت خور مکھیوں (Carrion Flies) کو دھوکہ دینا ہے۔ مکھیاں سمجھتی ہیں کہ کوئی مردہ جانور پڑا ہے، وہ انڈے دینے کی لالچ میں پھول کے اندر اترتی ہیں۔ پھول کے اندر کانٹے دار چیمبر ہوتا ہے جہاں مکھیاں پھنس کر پولن اپنے پروں پر لگا لیتی ہیں۔ پھول صرف 5 سے 7 دن تک کھلتا ہے اور پھر ایک کالی، سڑی ہوئی بدبودار کیچڑ بن کر ختم ہو جاتا ہے۔