جب ہم جنگل کا تصور کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ہزاروں الگ الگ بیجوں سے اگے درختوں کا خیال آتا ہے۔ لیکن امریکی ریاست یوٹاہ کے فش لیک نیشنل فاریسٹ میں واقع «پانڈو» (Pando) انسانی عقل کو ششدر کر دیتا ہے۔ اوپر سے دیکھنے پر یہ سنہری پتوں والے 47,000 تناور اور خوبصورت درختوں کا ایک وسیع و عریض جنگل ہے، لیکن علمِ نباتات اور جینیات کے مطابق یہ ہزاروں درخت نہیں بلکہ زمین پر ایک ہی واحد، دیو ہیکل اور کلونل جاندار (Clonal Colony) ہے!
زیرِ زمین جڑوں کا لافانی جال
پانڈو کا ہر تنا، جسے ہم ایک عام درخت سمجھتے ہیں، درحقیقت زیرِ زمین پھیلے ہوئے ایک وسیع مشترکہ جڑ کے نظام سے نکلنے والی ایک شاخ ہے۔ یہ جڑیں 106 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر ایک درخت کو پانی یا فاسفورس کی ضرورت ہو تو میلوں دور کا دوسرا درخت جڑوں کے پائپ لائن سے اسے غذا بھیج دیتا ہے۔ جینیاتی ٹیسٹوں نے تصدیق کی ہے کہ ان تمام 47,000 درختوں کا ڈی این اے 100 فیصد بالکل ایک جیسا ہے۔
80 ہزار سال قدیم زندہ معجزہ
اگرچہ پانڈو کا ایک انفرادی تنا عام طور پر 100 سے 130 سال جی کر سوکھ جاتا ہے، لیکن اس کی بنیادی زیرِ زمین جڑیں کبھی نہیں مرتیں۔ پرانے تنے کے گرتے ہی جڑ سے ایک نیا سبز کونپل پھوٹ پڑتی ہے۔ اس کی جڑوں کی قدامت کا اندازہ 80,000 سال لگایا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ پودا اس وقت بھی زمین پر سرسبز تھا جب نینڈرتھل انسان زمین پر گھومتے تھے اور اس نے پچھلے برفانی دور (Ice Age) کے تمام طوفانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
«جب ہوا چلتی ہے تو ایسپن کے پتوں کی چپٹی ڈنڈیاں آپس میں ٹکرا کر پانی کے بہاؤ جیسی سریلی موسیقی پیدا کرتی ہیں، جسے «ہوا کی سرگوشی» کہا جاتا ہے۔»
بقا کے خطرات اور تحفظ کی مہم
افسوسناک بات یہ ہے کہ 80 ہزار سال تک موسموں کے سرد و گرم جھیلنے والا یہ عظیم جاندار پچھلی چند دہائیوں سے خطرے میں ہے۔ جنگل میں بھیڑ بکریوں اور ہرنوں کی بہتات کی وجہ سے نئے پھوٹنے والے کونپلیں بڑی ہونے سے پہلے ہی کھا لی جاتی ہیں، جبکہ پرانے درخت عمر پوری کر کے سوکھ رہے ہیں۔ اب جنگل کے گرد باڑ لگا کر اس عظیم قدرتی عجوبے کو بچانے کی عالمی کوششیں جاری ہیں۔