ہم انسان صدیوں سے یہ سمجھتے رہے کہ درخت بے جان کھمبوں کی طرح خاموش اور بے حس ہوتے ہیں جو صرف زمین میں گڑے رہتے ہیں۔ مگر اکیسویں صدی کی جدید نباتاتی سائنس نے ایک ایسا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے جس نے پوری دنیا کو ششدر کر دیا ہے: جنگل کے درخت آپس میں باقاعدہ بات چیت کرتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور خطرے کی صورت میں پورے جنگل کو وارننگ جاری کرتے ہیں!
وڈ وائیڈ ویب (Wood Wide Web): فنگس کا انٹرنیٹ
زمین کے نیچے اربوں کھربوں باریک فنگل ریشے (Mycelium) موجود ہوتے ہیں جو مختلف درختوں کی جڑوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔
- درخت فوٹو سنتھیسز کے ذریعے جو شوگر اور کاربن بناتے ہیں، وہ اس کا کچھ حصہ فنگس کو دیتے ہیں۔
- اس کے بدلے فنگس مٹی کی گہرائی سے فاسفورس اور نایاب معدنیات نکال کر درختوں کو فراہم کرتی ہے۔
- اس مشترکہ نیٹ ورک کے ذریعے ایک درخت دوسرے درخت کو کاربن، نائٹروجن اور پانی منتقل کر سکتا ہے۔
خطرے کے سائرن اور کیمیائی مدافعت
جب کیڑے مکوڑے کسی ایک درخت کے پتے کھانا شروع کرتے ہیں تو وہ فوری طور پر فضا میں خوشبودار گیسیں (Pheromones) خارج کرتا ہے اور جڑوں کے نیچے برقی اور کیمیائی سگنل دوڑاتا ہے۔ 15 منٹ کے اندر اندر اردگرد کے تمام درخت اپنے پتوں میں "ٹینن" (Tannin) نامی کڑوا اور زہریلا کیمیکل بڑھا لیتے ہیں تاکہ جب کیڑے ان پر آئیں تو بد ذائقگی کی وجہ سے بھاگ جائیں۔
"جب کسی درخت کو کاٹا جاتا ہے تو اس کے قریب موجود ساتھی درخت اپنی جڑوں سے اس کٹے ہوئے تنے کو اس وقت تک خوراک بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ بالکل ختم نہ ہو جائے۔" — پیٹر وہلیبن (جرمن ماہرِ جنگلات)