نباتات و درخت ⏱️ مطالعہ کا وقت: 5 منٹ خطرے سے دوچار (Endangered in Wild)

جنکگو بائیلوبا — ڈائنوسار کے دور کا زندہ فوسل درخت جس نے ہیروشیما کا ایٹم بم بھی جھیل لیا

سائنسی نام: Ginkgo biloba

27 کروڑ سال پرانی نسل کا واحد بچ جانے والا درخت جس کے پنکھے نما سنہری پتے یادداشت کا قدرتی علاج ہیں

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ 1945ء میں ہیروشیما ایٹم بم دھماکے کے مرکز سے صرف 1 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود جنکگو درخت تابکاری جھیل کر اگلے ہی سال سرسبز ہو گئے تھے۔
  • ✦ اس کی پتیوں کی شکل اور ساخت ہو بہو ان فوسلز جیسی ہے جو ڈائنوسارز کے عہد کی چٹانوں میں محفوظ پائے گئے ہیں۔
  • ✦ اس کے پتوں سے حاصل ہونے والے اجزاء جدید طب میں یادداشت، دماغی گردشِ خون اور الزائمر کی بیماری کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

چارلس ڈارون نے تاریخ میں چند نایاب جانداروں کے لیے "زندہ فوسل" (Living Fossil) کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ اس اصطلاح کا سب سے سچا اور کامل مظہر "جنکگو بائیلوبا" (Ginkgo Biloba) نامی درخت ہے، جو نباتاتی دنیا کا وہ اکیلا مسافر ہے جس کا پوری زمین پر دور دور تک کوئی رشتہ دار یا دوسری نسل باقی نہیں بچی۔ یہ درخت اس وقت زمین پر لہلہا رہا تھا جب ڈائنوسارز یہاں گھوما کرتے تھے۔

27 کروڑ سالہ ناقابلِ یقین بقاء

سائنسدانوں کو چٹانوں کے اندر 27 کروڑ سال قدیم پتھر بنے پتے ملے ہیں جن کی بناوٹ موجودہ جنکگو کے پتوں سے 100 فیصد میل کھاتی ہے۔ جب زمین پر برفانی دور (Ice Age) آیا اور عظیم تباہیوں میں ڈائنوسارز اور لاکھوں نباتاتی نسلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، تو جنکگو نے چین کے چند محفوظ پہاڑی خطوں میں پناہ لے کر خود کو زندہ رکھا۔ یہ آج دنیا کا واحد درخت ہے جس کا اپنا الگ نباتاتی ڈویژن (Ginkgophyta) ہے۔

ہیروشیما ایٹم بم کے دھماکے میں معجزاتی حیات

6 اگست 1945ء کو جب جاپانی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا تو ہائپوسینٹر کے ارد گرد ہزاروں ڈگری درجہ حرارت کی تابکاری نے تمام عمارتوں، انسانوں اور پیڑ پودوں کو راکھ کر دیا تھا۔ مرکز سے بمشکل ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بدھ مت مندر کے احاطے میں چھ جنکگو درخت موجود تھے۔ اگرچہ ان کے پتے اور شاخیں جل گئیں مگر ان کے تنے محفوظ رہے، اور حیران کن طور پر 1946ء کے موسمِ بہار میں انہی جلے ہوئے تنوں سے نئے سبز شگوفے پھوٹ پڑے۔ جاپان میں انہیں "امید کا درخت" (Hibakujumoku) مانا جاتا ہے۔

"خزاں کے موسم میں جنکگو کے پنکھے نما پتے بیک وقت خالص سنہری رنگ میں بدل کر سڑکوں پر ایک طلائی قالین بچھا دیتے ہیں۔"

انسانی دماغ اور یادداشت کا قدرتی محافظ

جنکگو کے پتوں میں طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس اور نایاب کیمیکلز (Ginkgolides اور Bilobalides) پائے جاتے ہیں۔ جدید میڈیکل سائنس نے ثابت کیا ہے کہ جنکگو ایکسٹریکٹ انسانی دماغ کی باریک شریانوں میں خون اور آکسیجن کی سپلائی کو بڑھاتا ہے۔ یہ بوڑھے افراد میں یادداشت کی کمزوری، چکر آنے اور الزائمر (Dementia) کے علامات کو روکنے کے لیے ایک مجرب ہربل دوا کے طور پر دنیا بھر میں استعمال ہوتا ہے۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: