نباتات و درخت ⏱️ مطالعہ کا وقت: 5 منٹ خطرے سے دوچار (Vulnerable)

ڈریگن بلڈ ٹری (شجرِ دم الاخوین) — جزیرہ سقطریٰ کا چھتری نما درخت جس سے خون بہتا ہے

سائنسی نام: Dracaena cinnabari

زمین پر کسی دوسری کہکشاں کا گمان پیدا کرنے والا قدرتی عجوبہ جس کے تنے پر ہلکا سا کٹ لگانے پر خون جیسا سرخ شفا بخش گوند ابل پڑتا ہے

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ ڈریگن بلڈ ٹری صرف اور صرف جزیرہ سقطریٰ پر پایا جاتا ہے اور روئے زمین پر اس کے علاوہ قدرتی طور پر کہیں نہیں اگتا۔
  • ✦ اس کے تنے پر کٹ لگایا جائے تو درخت سے گہرا سرخ مائع نکلتا ہے جسے قدیم روایات میں «ڈریگن کا خون» یا عربی میں «دم الاخوین» (دو بھائیوں کا خون) کہا جاتا ہے۔
  • ✦ اس کی منفرد چھتری نما بناوٹ تیز دھوپ سے اپنی جڑوں کو سایہ دیتی ہے اور رات کی سمندری دھند کو قطرہ قطرہ نچوڑ کر نیچے تنے تک پہنچاتی ہے۔

بحرِ ہند میں یمن کے ساحلوں سے دور واقع جزیرہ سقطریٰ (Socotra) کو اگر آپ دیکھیں تو ایک لمحے کے لیے گمان ہوتا ہے کہ آپ زمین پر نہیں بلکہ ہالی ووڈ کی کسی سائنس فکشن فلم کے کسی خلائی سیارے پر آ گئے ہیں۔ اس جزیرے کا سب سے سحر انگیز اور غیر حقیقی باسی «ڈریگن بلڈ ٹری» (Dragon's Blood Tree) ہے، جسے مقامی زبان میں «دم الاخوین» کہا جاتا ہے۔ اس کی عجیب و غریب الٹی چھتری جیسی ساخت اور تنے سے ابلتا سرخ خون صدیوں سے طلسماتی قصوں کا مرکز رہا ہے۔

سمندری دھند کو نچوڑنے والی اڑن طشتری

ڈریگن بلڈ ٹری کی شکل ایک کھلی ہوئی چھتری یا بڑی اڑن طشتری (UFO) جیسی کیوں ہے؟ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ سخت ترین بنجر چٹانوں پر زندہ رہنے کی بقا کی زبردست حکمتِ عملی ہے۔ جزیرہ سقطریٰ پر بارش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، لیکن رات کو سمندر سے تیز دھند اٹھتی ہے۔ درخت کے نوکیلے اور موٹے پتے اس دھند کے آبی بخارات کو اپنے اوپر سمیٹ لیتے ہیں اور وہ پانی قطرہ قطرہ شاخوں سے ہوتا ہوا تنے کے بالکل نیچے جڑوں پر گرتا ہے۔ چھتری کا گھنا سایہ اس پانی کو سورج نکلنے پر بخارات بننے سے روکتا ہے۔

ڈریگن کا سرخ خون: تاریخ اور طبی معجزات

قدیم یونانی روایت کے مطابق ایک ڈریگن اور ہاتھی کی خوفناک لڑائی میں جو خون زمین پر گرا تھا، اس سے یہ درخت اگا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اس درخت کی موٹی چھال پر ہلکا سا چیرا لگایا جائے تو اندر سے سرخ رنگ کی گاڑھی رال (Resin) نکلتی ہے۔ قدیم رومی اور عرب اس سرخ گوند کو سونے کے بھاؤ خریدتے تھے۔ اسے زخموں کے خون کو فوری جمانے، بخار توڑنے، دانتوں کے درد کے علاج اور قرونِ وسطیٰ کے نامور وائلن بنانے والے کاریگر (Stradivarius) اپنے شاہکار سازوں کو رنگنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

«سقطریٰ جزیرے کے ایک تہائی سے زیادہ پودے اور جاندار دنیا میں اور کہیں نہیں پائے جاتے، اسی لیے اسے دنیا کی «سب سے عجیب اور طلسماتی جگہ» کہا جاتا ہے۔»

آہستہ رفتار اور موسمیاتی خطرہ

یہ درخت 800 سال تک زندہ رہ سکتا ہے، لیکن اس کی نمو اتنی سست ہوتی ہے کہ ایک ننھے پودے کو تناور درخت بننے میں ایک صدی درکار ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں بحر ہند کے غیر متوقع سمندری طوفانوں، جزیرے پر بکریاں چرانے کے رجحان اور بارشوں کی کمی کی وجہ سے نئے درخت اگنا کم ہو گئے ہیں، جس کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر نباتاتی ماہرین سرگرمِ عمل ہیں۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: