نباتات و درخت ⏱️ مطالعہ کا وقت: 5 منٹ کم سے کم تشویش (Least Concern)

دیودار — پاکستان کا قومی درخت، ہمالیہ کا وقار اور لافانی لکڑی

سائنسی نام: Cedrus deodara

سنسکرت زبان میں "دیودارو" یعنی معبود کا درخت — جس کی لکڑی میں صدیوں تک دیمک اور سڑن کا عمل داخل نہیں ہو سکتا

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ دیودار کی لکڑی میں قدرتی طور پر ایک خوشبودار تیل پایا جاتا ہے جو دیمک اور نمی کو دور رکھتا ہے، اس لیے مغل عمارتیں آج بھی سلامت ہیں۔
  • ✦ اس کا مخروطی ڈیزائن شدید برفباری میں شاخوں پر برف کو رکنے نہیں دیتا اور پھسل کر نیچے گرا دیتا ہے۔
  • ✦ تاریخی شاہی قلعہ لاہور، پرانی تاریخی مساجد اور برصغیر کی پٹریوں کے تختے سبھی دیودار کی لکڑی سے تیار کیے جاتے تھے۔

پاکستان کے شمالی کہساروں، وادی نیلم، سوات، دیر اور چترال کی چوٹیوں پر سر اٹھائے کھڑا "دیودار" (Deodar Cedar) نہ صرف پاکستان کا سرکاری قومی درخت ہے بلکہ یہ ہمالیہ کے پہاڑی ماحولیاتی نظام کا سب سے معتبر ستون ہے۔ اس کی پرشکوہ اونچائی، سدابہار ہریالی اور صدیوں پائیدار لکڑی نے اسے قدیم زمانے سے تمام درختوں کا بادشاہ بنا رکھا ہے۔

نام کی اصل اور تاریخی تقدس

لفظ دیودار سنسکرت زبان کے دو الفاظ "دیو" (یعنی دیوتا یا نورانی ہستی) اور "دارو" (درخت یا لکڑی) کا مرکب ہے، جس کا مطلب ہے "دیوتاؤں کا درخت"۔ قدیم وادی کشمیر اور ہندوکش کے قبائل دیودار کے جنگلات کو مقدس قرار دیتے تھے اور اس کے سائے میں پنچائتیں لگاتے تھے۔ اس کی بلندی 130 سے 160 فٹ (50 میٹر) تک پہنچ جاتی ہے اور اس کا تنا انتہائی سیدھا اور چوڑا ہوتا ہے۔

دیمک اور سڑن سے پاک لافانی لکڑی

دیودار کی لکڑی کو دنیا بھر میں لکڑیوں کا سونا مانا جاتا ہے، جس کی بڑی وجوہات یہ ہیں:

  • قدرتی تیل (Cedar Oil): اس کی لکڑی کے ریشوں میں ایک خاص قسم کا اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل تیل رچا ہوتا ہے جس کی مخصوص مہک دیمک، کیڑوں اور پھپھوندی کو قریب نہیں پھٹکنے دیتی۔
  • پانی میں نہ گلنا: اگر دیودار کی لکڑی پانی میں یا گیلی مٹی میں دبی رہے تب بھی یہ صدیوں تک گلتی سڑتی نہیں ہے۔ سری نگر کی تاریخی ڈل جھیل کے ہاؤس بوٹس (Houseboats) کی بنیادیں صدیوں سے اسی لکڑی پر کھڑی ہیں۔
"برطانوی راج کے دوران پورے برصغیر میں ریلوے کی پٹریوں کے نیچے بچھائے جانے والے لاکھوں سلیپرز (Sleepers) اور مغل دور کی مساجد کے شہتیر دیودار سے ہی بنائے جاتے تھے۔"

برفانی طوفانوں کا قدرتی انجینئر

دیودار کا پیرا شوٹ اور مخروطی (Conical) ڈھانچہ اوپر سے باریک اور نیچے سے چوڑا ہوتا ہے۔ اس کی سوئیاں سخت اور لچکدار ہوتی ہیں۔ جب دسمبر اور جنوری میں مری اور سوات میں منوں وزنی برف گرتی ہے تو دیودار کی شاخیں لچک کر نیچے جھک جاتی ہیں جس سے برف خود بخود نیچے پھسل جاتی ہے اور درخت کی کوئی شاخ ٹوٹتی نہیں ہے۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: