پاکستان کے شمالی کہساروں، وادی نیلم، سوات، دیر اور چترال کی چوٹیوں پر سر اٹھائے کھڑا "دیودار" (Deodar Cedar) نہ صرف پاکستان کا سرکاری قومی درخت ہے بلکہ یہ ہمالیہ کے پہاڑی ماحولیاتی نظام کا سب سے معتبر ستون ہے۔ اس کی پرشکوہ اونچائی، سدابہار ہریالی اور صدیوں پائیدار لکڑی نے اسے قدیم زمانے سے تمام درختوں کا بادشاہ بنا رکھا ہے۔
نام کی اصل اور تاریخی تقدس
لفظ دیودار سنسکرت زبان کے دو الفاظ "دیو" (یعنی دیوتا یا نورانی ہستی) اور "دارو" (درخت یا لکڑی) کا مرکب ہے، جس کا مطلب ہے "دیوتاؤں کا درخت"۔ قدیم وادی کشمیر اور ہندوکش کے قبائل دیودار کے جنگلات کو مقدس قرار دیتے تھے اور اس کے سائے میں پنچائتیں لگاتے تھے۔ اس کی بلندی 130 سے 160 فٹ (50 میٹر) تک پہنچ جاتی ہے اور اس کا تنا انتہائی سیدھا اور چوڑا ہوتا ہے۔
دیمک اور سڑن سے پاک لافانی لکڑی
دیودار کی لکڑی کو دنیا بھر میں لکڑیوں کا سونا مانا جاتا ہے، جس کی بڑی وجوہات یہ ہیں:
- قدرتی تیل (Cedar Oil): اس کی لکڑی کے ریشوں میں ایک خاص قسم کا اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل تیل رچا ہوتا ہے جس کی مخصوص مہک دیمک، کیڑوں اور پھپھوندی کو قریب نہیں پھٹکنے دیتی۔
- پانی میں نہ گلنا: اگر دیودار کی لکڑی پانی میں یا گیلی مٹی میں دبی رہے تب بھی یہ صدیوں تک گلتی سڑتی نہیں ہے۔ سری نگر کی تاریخی ڈل جھیل کے ہاؤس بوٹس (Houseboats) کی بنیادیں صدیوں سے اسی لکڑی پر کھڑی ہیں۔
"برطانوی راج کے دوران پورے برصغیر میں ریلوے کی پٹریوں کے نیچے بچھائے جانے والے لاکھوں سلیپرز (Sleepers) اور مغل دور کی مساجد کے شہتیر دیودار سے ہی بنائے جاتے تھے۔"
برفانی طوفانوں کا قدرتی انجینئر
دیودار کا پیرا شوٹ اور مخروطی (Conical) ڈھانچہ اوپر سے باریک اور نیچے سے چوڑا ہوتا ہے۔ اس کی سوئیاں سخت اور لچکدار ہوتی ہیں۔ جب دسمبر اور جنوری میں مری اور سوات میں منوں وزنی برف گرتی ہے تو دیودار کی شاخیں لچک کر نیچے جھک جاتی ہیں جس سے برف خود بخود نیچے پھسل جاتی ہے اور درخت کی کوئی شاخ ٹوٹتی نہیں ہے۔