ہم جب بانس (Bamboo) کے جنگل کو دیکھتے ہیں تو اسے اونچے اونچے درخت سمجھتے ہیں، مگر علمِ نباتات کا سچ یہ ہے کہ بانس درخت نہیں بلکہ گھاس (Grass) کے خاندان کا رکن ہے! یہ گھاس کا وہ دیو ہیکل سلطان ہے جس نے نمو پانے کی رفتار اور لچکدار طاقت میں دنیا کی تمام جڑی بوٹیوں اور فولادی سٹرکچرز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ایک گھنٹے میں ڈیڑھ انچ کا اضافہ: گنیز ورلڈ ریکارڈ
بانس کے پاس کرۂ ارض پر سب سے تیزی سے بڑھنے والے پودے کا عالمی ریکارڈ ہے۔ جاپانی ماڈیک بانس (Phyllostachys bambusoides) برسات کے موسم میں ایک ہی دن (24 گھنٹے) میں 35 انچ (91 سینٹی میٹر) تک لمبا ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کسی خاموش بانس کے جنگل میں بیٹھ کر بغور مشاہدہ کریں تو آپ کو انسانی آنکھ سے بانس اوپر کی طرف نکلتا ہوا دکھائی دے سکتا ہے!
فولاد سے زیادہ مضبوط اور ماحول دوست لکڑی
بانس کی ساخت اندر سے کھوکھلی اور گول ہوتی ہے جس میں جگہ جگہ نوڈز (جوڑ) ہوتے ہیں۔ انجینئرنگ ٹیسٹس میں ثابت ہوا ہے کہ بانس کی "ٹینسل اسٹرینتھ" (کھنچاؤ اور لچک کی برداشت) 28,000 پاؤنڈ فی مربع انچ ہے، جو کہ عام ساختی فولاد (Structural Steel کی 23,000 پاؤنڈ) سے بھی زیادہ ہے۔ اسی لیے مشرقی ایشیاء، ہانگ کانگ اور سنگاپور میں 50 منزلہ فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے لیے بیرونی سہاروں (Scaffolding) کے طور پر لوہے کے پائپوں کے بجائے بانس کے کھمبے استعمال کیے جاتے ہیں جو زلزلے اور ہوا کے دباؤ کو لچک سے جھیل لیتے ہیں۔
"بانس عام درختوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ آکسیجن خارج کرتا ہے اور فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو چار گنا زیادہ تیزی سے جذب کرتا ہے۔"
اجتماعی پھول دینے کا پراسرار حیاتیاتی الارم
بانس کی ایک صفت ایسی ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرینِ نباتات کو ورطہٴ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ بانس کی مخصوص انواع دہائیوں تک پھول نہیں دیتیں۔ لیکن 60 سے 120 سال گزرنے کے بعد، پوری دنیا میں اس نسل کے تمام بانس — چاہے وہ چین میں ہوں، یورپ کے گملوں میں ہوں یا امریکہ کے جنگلات میں — بیک وقت ایک ہی ہفتے میں پھول دیتے ہیں اور اس کے بعد خشک ہو کر مر جاتے ہیں۔ یہ اندرونی جینیاتی گھڑی (Internal Biological Clock) کیسے کام کرتی ہے، یہ آج بھی سائنس کا سربستہ راز ہے۔