جنوبی امریکہ کے طاس میں ساٹھ لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایمیزون کا عظیم بارانی جنگل (Amazon Rainforest) روئے زمین پر زندگی کا سب سے بڑا اور گھنا گہوارہ ہے۔ یہ جنگل اتنا وسیع ہے کہ اگر یہ کوئی ملک ہوتا تو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا نواں سب سے بڑا ملک ہوتا۔ اسے بلا مبالغہ «زمین کا پھیپھڑا» کہا جاتا ہے کیونکہ یہ فضا سے اربوں ٹن زہریلی کاربن جذب کر کے ہمیں سانس لینے کے لیے صاف شفاف آکسیجن فراہم کرتا ہے۔
چار پرتوں پر مشتمل عمودی نباتاتی دنیا
ایمیزون کا ماحولیاتی نظام زمین سے لے کر آسمان تک چار مختلف عمودی سطحوں میں منقسم ہے:
- ایمرجنٹ لیئر (200 فٹ اونچے درخت): جنگل کے دیو قامت درخت جو چھتری کو پھاڑ کر تیز دھوپ میں آسمان کی طرف نکل جاتے ہیں۔
- سائبان یا کینوپی (Canopy): 100 فٹ کی بلندی پر پتوں اور شاخوں کی ایک ایسی مسلسل سبز چھت جس پر جنگل کی 80 فیصد مخلوقات بستی ہیں۔
- انڈر اسٹوری (Understory): مدہم روشنی والا خطہ جہاں بڑے پتوں والے جھاڑیاں اور خوبصورت آرکڈز پھلتے پھولتے ہیں۔
- فارسٹ فلور (زمین کی سطح): مستقل اندھیرے کا خطہ جہاں سورج کی صرف 1 فیصد روشنی پہنچتی ہے اور گرے ہوئے پتے چند دنوں میں سڑ کر نامیاتی کھاد بن جاتے ہیں۔
دریائے ایمیزون: زمین کی سب سے بڑی آبی شاہراہ
جنگل کے سینے سے گزرنے والا دریائے ایمیزون میٹھے پانی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے۔ اس کے پانی کا بہاؤ اتنا شدید ہے کہ دنیا کے اگلے 7 بڑے دریا مل کر بھی اس جتنا پانی سمندر میں نہیں انڈیل سکتے۔ بحر اوقیانوس میں جب یہ گرتا ہے تو سمندر کا نمکین پانی 160 کلومیٹر تک میٹھا ہو جاتا ہے۔
«ایمیزون کا جنگل صحرائے اعظم (سہارا) کے احسان مند ہے؛ صحرا سے اڑنے والی معدنی ریت ہوائی لہروں پر تیرتی ہوئی ہزاروں میل دور ایمیزون پر برستی ہے اور پودوں کو فاسفورس فراہم کرتی ہے۔»
طبی دریافتوں کا لامتناہی خزانہ
سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ایمیزون میں پودوں اور جڑی بوٹیوں کی صرف 1 فیصد انواع کا ابھی تک سائنسی لیبارٹریوں میں تجزیہ کیا جا سکا ہے۔ کینسر، ملیریا، اینستھیزیا اور دل کی درجنوں امراض کی دوائیں انہی پودوں سے نکالی گئی ہیں۔ اس جنگل کی کٹائی نہ صرف موسمیاتی تباہی لائے گی بلکہ بنی نوع انسان کے لیے مستقبل کے امراض کا قدرتی علاج بھی چھین لے گی۔