گرمیوں کے ایک خوشگوار دن میں ایک چیونٹی صبح سے شام تک مسلسل محنت کر کے اناج کے دانے اکٹھے کر رہی تھی تاکہ سردیوں کے برفیلے موسم کے لیے خوراک کا ذخیرہ کر سکے۔
پاس ہی سبز گھاس پر ایک سبز ٹڈا مزے سے لیٹا بانسری بجا رہا تھا اور چیونٹی کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا: "ارے چیونٹی بہن! اتنے خوبصورت موسم میں کیوں جان کھپا رہی ہو؟ آؤ ذرا میرے ساتھ گانے گاؤ اور زندگی کا مزہ لو!”
چیونٹی نے دھیمے لہجے میں کہا: "بھائی ٹڈے! میں سردیوں کے سخت موسم کی تیاری کر رہی ہوں، جب برف پڑے گی تو باہر کوئی اناج نہیں ملے گا۔ تم بھی کھیل کود چھوڑ کر خوراک کا انتظام کر لو۔”
ٹڈے نے ہنس کر ٹال دیا اور بولا: "سردیاں ابھی بہت دور ہیں، دیکھا جائے گا!”
جب شدید سردیاں آئیں اور چاروں طرف برف کی چادر پھیل گئی تو ٹڈے کو کھانے کے لیے ایک پتا بھی نہ ملا۔ وہ بھوک اور سردی سے کانپتا ہوا چیونٹی کے گھر پہنچا اور اناج کی بھیک مانگنے لگا۔
چیونٹی نے اسے تھوڑا کھانا تو دے دیا مگر نصیحت کی: "اگر تم گرمیوں میں وقت ضائع نہ کرتے تو آج تمہیں یوں دوسروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑتا۔”