پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک گاؤں میں احمد نامی ایک غریب کسان اپنی بیوی کے ساتھ ایک چھوٹے سے کچے مکان میں رہتا تھا۔ اس کے پاس آمدنی کا کوئی بڑا ذریعہ نہ تھا، بس چند مرغیاں اور بکری تھی۔
ایک دن احمد جب صبح سویرے مرغیوں کے ڈربے میں انڈے اکٹھے کرنے گیا، تو اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ڈربے کے ایک کونے میں پیلے رنگ کی ایک خاص مرغی بیٹھی تھی جس کے نیچے خالص سونے کا ایک چمکتا ہوا انڈا رکھا ہوا تھا!
کسان نے لرزتے ہاتھوں سے انڈا اٹھایا۔ وہ وزنی تھا اور خالص سونے کا بنا ہوا تھا۔ کسان خوشی سے چیختا ہوا گھر کے اندر بھاگا اور اپنی بیوی کو دکھایا۔ وہ دونوں اس انڈے کو شہر کے ایک بڑے صرافہ بازار میں لے گئے اور اسے بیچ کر ڈھیروں روپے لے آئے۔ اب ان کی غربت دور ہونے لگی تھی۔
مرغی ہر روز صبح ایک سنہری انڈا دیتی تھی۔ کسان روزانہ انڈا بیچتا، اچھے کپڑے پہنتا اور لذیذ کھانے کھاتا۔ چند ہی مہینوں میں کسان گاؤں کا ایک خوشحال اور امیر آدمی بن گیا۔
لیکن جلد ہی کسان کے دل میں شیطان نے لالچ ڈال دی۔ وہ سوچنے لگا: "یہ مرغی روزانہ صرف ایک ہی انڈا کیوں دیتی ہے؟ اس کے پیٹ میں تو سونے کے سینکڑوں انڈے موجود ہوں گے! اگر میں ایک ایک انڈے کا انتظار کرتا رہا تو مجھے بہت وقت لگے گا۔ کیوں نہ میں اس کا پیٹ چاک کر کے سارے سنہری انڈے ایک ہی بار نکال لوں اور دنیا کا سب سے بڑا امیر بن جاؤں؟”
اس نے اپنی اس حماقت بھری بات کا ذکر اپنی بیوی سے کیا تو بیوی نے بھی لالچ میں آ کر اس کی ہاں میں ہاں ملا دی۔
اگلی صبح کسان نے ایک تیز چھری اٹھائی اور بے گناہ مرغی کو ذبح کر دیا۔ لیکن جب اس نے مرغی کا پیٹ کھول کر دیکھا تو وہ سر پکڑ کر رونے لگا۔ مرغی کا اندرونی حصہ بالکل عام مرغیوں جیسا تھا، وہاں سونے کا ایک بھی انڈا موجود نہ تھا!
اب کسان کی آنکھوں سے پچھتاوے کے آنسو بہہ رہے تھے، لیکن اب کیا ہو سکتا تھا؟ مرغی مر چکی تھی اور کسان نے اپنی لالچ کی وجہ سے روزانہ ملنے والی سنہری نعمت کو ہمیشہ کے لیے گنوا دیا تھا اور وہ دوبارہ غربت کے گڑھے میں گر گیا۔