گرمیوں کی ایک تپتی ہوئی دوپہر میں ایک بھوکی اور پیاسی لومڑی خوراک کی تلاش میں جنگل سے نکل کر بستی کی طرف آ گئی۔ وہ کئی گھنٹوں سے بھٹک رہی تھی لیکن اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں ملا تھا۔ اس کی بھوک سے بری حالت تھی۔
چلتے چلتے وہ ایک خوبصورت اور سرسبز باغ میں جا پہنچی۔ باغ کے ایک اونچے دالان پر انگوروں کی لمبی بیلیں چڑھی ہوئی تھیں۔ لومڑی نے جب اوپر دیکھا تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ بیلوں پر گہرے جامنی اور ہرے رنگ کے موٹے موٹے، رس بھرے انگوروں کے خوشے جھول رہے تھے۔
لومڑی نے دل میں کہا: "واہ! اللہ نے میری سن لی۔ ان رسیلے انگوروں سے نہ صرف میری بھوک مٹ جائے گی بلکہ میری پیاس بھی بجھ جائے گی!”
انگور کافی اونچائی پر لٹک رہے تھے۔ لومڑی نے چند قدم پیچھے ہٹ کر زوردار چھلانگ لگائی، لیکن انگور اس کے منہ سے کچھ فاصلے پر رہ گئے۔
اس نے ہمت نہ ہاری۔ وہ دوبارہ پچھلے پیروں پر کھڑی ہوئی، لمبی سانس لی اور پہلے سے بھی اونچی چھلانگ لگائی۔ مگر افسوس! وہ اب بھی انگوروں کے خوشے تک نہ پہنچ سکی۔
لومڑی نے بار بار کوشش کی، دسیوں چھلانگیں لگائیں۔ وہ تھک کر چور ہو گئی، اس کی زبان باہر نکل آئی اور پسینے سے شرابور ہو گئی۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ انگوروں تک کسی صورت نہیں پہنچ سکتی، تو اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں کوئی دوسرا جانور اس کا مذاق تو نہیں اڑا رہا۔
پھر اس نے اپنی ناک چڑھائی اور اترا کر بولی:
"ہوں! مجھے ان انگوروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دیکھنے میں ہی اچھے ہیں، اصل میں تو یہ بالکل کھٹے اور کچے ہیں! اگر میں نے انہیں کھا لیا تو میرا گلا خراب ہو جائے گا اور میں بیمار پڑ جاؤں گی!”
یہ کہہ کر لومڑی وہاں سے بھاگ نکلی۔ وہ سچ تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ناکامی کا ملبہ ان میٹھے انگوروں پر ڈال رہی تھی۔