ایک تھا بلبل، پیارا سا بلبل
باغ میں رہتا، گاتا تھا بلبل!
بلبل کا بچہ، کھاتا تھا کھچڑی
پیتا تھا پانی، گاتا تھا گانا!
سر پر تھی کلغی، دم تھی کٹوری
آنکھیں تھیں روشن، میٹھی تھی بولی!
جب صبح ہوتی، سب کو جگاتا
پھولوں کی ڈالی، پر لہراتا!
اک دن اکیلا، اڑنے کو نکلا
نیلے گگن میں، دور وہ پہنچا!
آزاد رہنا، سب کو ہے بھاتا
بلبل بھی اپنا، نغمہ سناتا!