پیارے بچو! علامہ محمد اقبال کی نظم "ہمدردی” دنیا بھر کے اردو نصابوں میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی نظم ہے۔ یہ نظم بچوں کے دلوں میں ایثار، قربانی اور دوسروں کی مدد کرنے کا سچا جذبہ پیدا کرتی ہے:
تھا غمگین نوحہ کناں، سرور کا نہ تھا کچھ گل
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے میں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے!
نظم کا فکری پیغام:
یہ نظم ہمیں سکھاتی ہے کہ نیکی کرنے کے لیے امیر، بڑا یا طاقتور ہونا ضروری نہیں ہے۔ ننھا سا جگنو جس کی کوئی بڑی حیثیت نہ تھی، اس نے اندھیری رات میں اپنے جسم کی ننھی سی روشنی جلا کر بلبل کو اس کے گھونسلے تک پہنچا دیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے ساتھیوں، غریبوں اور بے بس لوگوں کی مدد میں ہمیشہ پیش پیش رہیں۔