پیارے بچو! ہمارے قومی شاعر حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے بچوں کی تربیت اور اخلاق سنوارنے کے لیے بے شمار خوبصورت نظمیں لکھیں۔ ان کی کتاب "بانگِ درا” کی سب سے مشہور اور سبق آموز نظم "پہاڑ اور گلہری” ہے:
تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے!
ذرا سی چیز ہے، پر غرور کیا کہنا!
یہ عقل اور یہ سمجھ، یہ شعور کیا کہنا!
خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیں
جو بے شعور ہوں یوں با تمیز بن بیٹھیں!
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے
جو مجھ میں ہے وہ بھلا تجھ کو ہو نصیب کہاں
بھلا پہاڑ کہاں، جانور غریب کہاں!
کہا یہ سن کے گلہری نے: منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دل سے انہیں نکال ذرا!
جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا؟
نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا!
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا، کوئی چھوٹا، یہ اس کی حکمت ہے
بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے
قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نری بڑائی ہے، خوبی ہے اور کیا تجھ میں؟
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھالیہ ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو!
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں!
نظم کا خوبصورت اخلاقی خلاصہ:
علامہ اقبال اس خوبصورت مکالمے کے ذریعے بچوں کو یہ عظیم سچائی سکھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کسی بھی انسان، جانور یا پودے کو بے مقصد یا کمتر پیدا نہیں فرمایا۔ اگر پہاڑ بڑا ہے تو وہ حرکت نہیں کر سکتا، جبکہ ننھی گلہری اچھل کود کر سکتی ہے اور چھالیہ توڑ سکتی ہے۔ ہمیں کبھی اپنی کسی خوبی پر تکبر نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی دوسرے کو حقیر سمجھنا چاہیے۔