رمضان المبارک اور روزے کے روحانی و اخلاقی مقاصد: تزکیہ، تقویٰ اور باہمی ہمدردی

قلم
شعبہ تحقیق و تصنیف، ادارہ اردو کوریج 11 ستمبر 2026ء
رمضان المبارک اور روزے کے روحانی و اخلاقی مقاصد: تزکیہ، تقویٰ اور باہمی ہمدردی

رمضان المبارک محض بھوک پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ نفس امارہ پر قابو، دلوں کی صفائی اور قرآن سے تعلق کا سالانہ تربیتی کورس ہے۔ روزے کے طبی، معاشرتی اور روحانی فیوض کا احاطہ۔

رمضان المبارک اسلامی سال کا سب سے بابرکت، پرنور اور عظیم الشان مہینہ ہے جس میں رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ یہ مہینہ انسان کو روزمرہ کی مادی اور دنیاوی مصروفیات کی دلدل سے نکال کر روحانی بلندیوں، ضمیر کی بیداری اور تقویٰ کے سرسبز میدان میں لا کھڑا کرتا ہے۔

حکمتِ صوم
سورۃ البقرہ: ۱۸۳

«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ»

”اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ (پرہیزگاری اور خوفِ خدا) پیدا ہو۔“

۱. روزے کا اصل مقصود: تقویٰ اور ضبطِ نفس کی تربیت

قرآن مجید نے روزے کا جو بنیادی ہدف بیان کیا وہ ”لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ“ ہے۔ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں انسان کو یہ پختہ احساس رہے کہ میرا رب مجھے ہر لمحہ دیکھ رہا ہے۔

ایک روزہ دار شدید گرمی اور پیاس کے عالم میں اپنے بند کمرے میں اکیلا ہوتا ہے، ٹھنڈا پانی موجود ہوتا ہے، کوئی انسان دیکھنے والا نہیں ہوتا، مگر وہ پانی کا ایک قطرہ بھی حلق سے نیچے نہیں اتارتا۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ انسان نہیں دیکھ رہے مگر میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ یہی وہ ضبطِ نفس ہے جو اگر سال کے باقی گیارہ مہینوں میں بھی انسان کے ساتھ رہے تو وہ جھوٹ، رشوت، حرام خوری اور بددیانتی سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔

۲. روزے کی اخلاقی روح اور جھوٹ سے پرہیز

اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی بدزبانی، جھوٹ، غیبت اور بد اخلاقی ترک نہ کرے تو اس کے روزے کی روح فنا ہو جاتی ہے اور وہ صرف فاقہ کشی بن کر رہ جاتا ہے۔

روحِ روزہ کی متفق علیہ حدیث
صحیح بخاری: ۱۹۰۳

«مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ»

”جس شخص نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا، تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔“

۳. باہمی ہمدردی اور غریبوں کے دکھ کا عملی احساس

عام دنوں میں پیٹ بھر کر کھانے والے انسان کو کبھی اندازہ نہیں ہوتا کہ بھوک کی تپش اور پیاس کی شدت کیا ہوتی ہے۔ رمضان المبارک میں صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک جب ایک مالدار اور حاکم بھوکا پیاسا رہتا ہے تو اس کے دل میں معاشرے کے ان لاکھوں غریب، نادار اور یتیم بچوں کے لیے ہمدردی اور درد کا سمندر موجزن ہوتا ہے جنہیں دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں صدقات و خیرات اور زکوٰۃ کی ادائیگی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔

۴. قرآن کریم سے تجدیدِ تعلق اور شبِ قدر کی تلاش

رمضان اور قرآن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» (رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا)۔ اس مہینے میں راتوں کو تراویح میں قرآن کا سننا اور دن میں تلاوت و فہم کا اہتمام انسان کی روح کو صیقل کرتا ہے۔

آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کی جانے والی "شبِ قدر” وہ رات ہے جس کی ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں (۸۳ سال ۴ ماہ) کی مسلسل عبادت سے افضل اور برتر قرار دی گئی ہے۔

رمضان المبارک کو کارآمد بنانے کا منشور

  • سوشل میڈیا اور فضول گفتگو سے پرہیز کر کے روزانہ تلاوتِ قرآن اور تدبر کا خاص وقت نکالیں۔
  • سحری کے وقت تہجد اور استغفار کا اہتمام کریں کیونکہ یہ دعاؤں کی قبولیت کی خاص گھڑی ہے۔
  • روزانہ کم از کم کسی ایک ضرورت مند روزہ دار کو افطار کرانے کا اہتمام کریں۔
🏛️

ادارہ اردو کوریج — شعبہ تحقیق، مطالعہ و افتاء

یہ مضمون قرآن مجید، صحاح ستہ کی احادیث نبویہ اور سلف صالحین کے مستند علمی ماخذات کی تفصیلی جانچ کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ قارئین کسی بھی علمی یا فقہی مشورے کے لیے ہمارے شعبہ تحقیق سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے