ہم سب جانتے ہیں کہ انسانی جسم کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے اور جسم کے تمام بنیادی افعال (خون کی گردش، درجہ حرارت کا توازن، اور زہریلے مادوں کا اخراج) پانی ہی کی بدولت ممکن ہیں۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ پانی کی کمی (Dehydration) صرف گرمی، پسینے یا کم پانی پینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لیکن طبی حقیقت یہ ہے کہ کئی ایسی خاموش اور دائمی بیماریاں ہیں جو انسان کے اندر موجود پانی اور ضروری الیکٹرولائٹس کو خاموشی سے ختم کر دیتی ہیں۔
۱۔ ذیابیطس (Diabetes Mellitus): پیشاب کے راستے پانی کا اخراج
جب خون میں گلوکوز (شوگر) کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے تو گردے اس اضافی شکر کو پیشاب کے راستے باہر نکالنے کی مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ اس عمل کو طبی اصطلاح میں آسموٹک ڈائیوریسس (Osmotic Diuresis) کہا جاتا ہے۔ اس دوران گلوکوز اپنے ساتھ جسم کا بیش قیمت پانی بھی کھینچ کر باہر لے جاتی ہے، جس کی وجہ سے شوگر کے مریضوں کو بار بار پیشاب کی حاجت ہوتی ہے اور ان کا منہ اور گلا ہر وقت خشک رہتا ہے۔
۲۔ ایڈیسن کی بیماری اور ایڈرینل گلینڈ کے مسائل
گردوں کے اوپر موجود ایڈرینل غدود ایک اہم ہارمون الڈوسٹیرون (Aldosterone) خارج کرتے ہیں جو جسم میں نمکیات اور پانی کی سطح کو متوازن رکھتا ہے۔ ایڈیسن ڈیزیز میں یہ غدود ناکارہ ہو جاتے ہیں، جس سے جسم نمکیات (سوڈیم) کو روک نہیں پاتا اور جسمانی پانی تیزی سے ضائع ہو جاتا ہے۔
۳۔ گردوں کے دائمی امراض (Chronic Kidney Disease)
صحت مند گردے پیشاب کو فلٹر کر کے ضروری پانی کو دوبارہ خون میں جذب کر لیتے ہیں۔ لیکن جب گردوں کی فلٹریشن کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے تو وہ پیشاب کو گاڑھا نہیں کر پاتے اور وافر مقدار میں پانی ضائع ہو جاتا ہے جس سے مریض مستقل ڈیہائیڈریشن کا شکار رہتا ہے۔
۴۔ آنتوں کے پرانے امراض (IBS, Celiac Disease اور السرٹیو کولائٹس)
آنتوں میں پرانی سوزش یا بدہضمی کی صورت میں بڑی آنت مائعات کو جذب کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ بار بار نرم پاخانے یا اسہال آنے کی صورت میں جسم کے اندر نہ صرف پانی بلکہ پوٹاشیم اور میگنیشیم جیسے انتہائی قیمتی نمکیات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
۵۔ تھائیرائڈ کا اوور ایکٹیو ہونا (Hyperthyroidism)
اگر تھائیرائڈ گلینڈ ضرورت سے زیادہ فعال ہو جائے تو جسم کی اندرونی بھٹی بہت تیز چلنے لگتی ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور مریض کو شدید پسینہ آتا ہے، جس سے جسم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر سکتی ہے۔
۶۔ بلڈ پریشر کی پیشاب آور ادویات (Diuretics)
ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لیے ڈاکٹرز جو پیشاب آور گولیاں تجویز کرتے ہیں، ان کا مقصد جسم سے اضافی پانی نکال کر بلڈ پریشر کم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر ان ادویات کے ساتھ پانی کا مناسب استعمال نہ کیا جائے تو یہ مریض کو شدید ڈیہائیڈریشن کا شکار کر دیتی ہیں۔
۷۔ جگر کی خرابی اور پیٹ میں پانی بھرنا (Liver Cirrhosis)
جگر کی بیماری میں خون کی شریانوں کا پانی بافتوں اور پیٹ کے خلا میں جمع ہونے لگتا ہے (جسے Ascites کہتے ہیں)۔ بظاہر پیٹ پھول جاتا ہے لیکن اصل شریانوں کے اندر پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔
جسم میں پانی کی کمی کی ابتدائی علامات جنہیں نظر انداز نہ کریں
- پیشاب کی رنگت کا گہرا زرد یا بھورا ہو جانا۔
- زبان اور ہونٹوں کا خشک ہو کر پھٹنا۔
- اچانک اٹھنے پر چکر آنا یا آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانا۔
- جلد کی لچک ختم ہونا (جب ہاتھ کی جلد کو چٹکی کاٹیں تو وہ فوراً اپنی جگہ واپس نہ جائے)۔
- مسلسل سر درد، پٹھوں کا کھچاؤ اور غیر معمولی سستی۔
پانی اور الیکٹرولائٹس کا فوری قدرتی متبادل
اگر آپ کسی دائمی بیماری کا شکار ہیں تو صرف سادہ پانی پینے کے بجائے درج ذیل مائعات کو ترجیح دیں:
- او آر ایس (ORS): ایک لیٹر ابلے ہوئے ٹھنڈے پانی میں ایک پیکٹ او آر ایس ملا کر دن بھر گھونٹ گھونٹ پیئیں۔
- ناریل کا پانی (Coconut Water): قدرتی الیکٹرولائٹس، پوٹاشیم اور سوڈیم کا سب سے محفوظ ذریعہ ہے۔
- لیموں پانی مع چٹکی بھر نمک: گرمیوں میں دھوپ سے آنے کے بعد پانی میں لیموں اور کالا نمک ملا کر پینا لو اور پانی کی کمی کا بہترین توڑ ہے۔
