شاعری ہب / غزل / بلندیوں پہ پہنچ کر بھی دعا یہ مانگی ہے

بلندیوں پہ پہنچ کر بھی دعا یہ مانگی ہے

Bulandiyon pe Pahunch Kar bhi Ghazal Rana

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بلندیوں پہ پہنچ کر بھی دعا یہ مانگی ہے

کہ میرے پاؤں زمیں سے کبھی جدا نہ ہوں!

ہمیں تو اپنے بزرگوں نے یہ سکھایا ہے

کہ ہم انا کے سمندر میں گمشدہ نہ ہوں!

ہمیشہ سچ کی حمایت میں سر اٹھایا ہے

چاہے زمانے کے سارے نشاں گواہ نہ ہوں!

منورؔ سادگی و عجز ہی سب سے بڑا وقار

جس سے خدا کے حضور ہم کبھی شرمسار نہ ہوں!

Bulandiyon Pe Pahunch Kar Bhi Dua Yeh Maangi Hai

Ke Mere Paaon Zameen Se Kabhi Juda Na Hon!

Humein To Apne Buzurgon Ne Yeh Sikhaya Hai

Ke Hum Ana Ke Samundar Mein Gumshuda Na Hon!

Hamesha Sach Ki Himaayat Mein Sar Uthaaya Hai

Chaahe Zamane Ke Saare Nishaan Gawaah Na Hon!

Munawwar Saadgi-o-Ajz Hi Sab Se Bada Waqaar

Jis Se Khuda Ke Huzoor Hum Kabhi Sharmsaar Na Hon!

غزل Urdu
Comment
منور رانا
تعارفِ شاعر

منور رانا

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 26 نومبر 1952 — 14 جنوری 2024 📍

سید منور علی المعروف منورؔ رانا (26 نومبر 1952ء – 14 جنوری 2024ء) اردو غزل کی تاریخ میں 'ماں' کے موضوع پر سب سے عظیم، منفرد اور لازوال شاعر مانے جاتے ہیں۔ آپ رائے بریلی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے