شاعری ہب / غزل / زندگی تو نے مجھے جو بھی دیا ہے

زندگی تو نے مجھے جو بھی دیا ہے

Zindagi-Tu-Ne-Mujhe-Jo-Bhi-Diya-Hai-Barelvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

زندگی تو نے مجھے جو بھی دیا ہے وسیمؔ

ہم نے شکر کے ساتھ اسے دل سے لگایا ہے سدا!

ہم نے کبھی شکوہِ تقدیر نہیں کیا محفل میں

بلکہ ہر درد کو غزل کا روپ دیا ہے سدا!

وسیمؔ معرفت اور حکمت کا یہ سرور سدا رہے گا

جس نے دلوں کو امن کا پیغام دیا ہے سدا!

Zindagi Tu Ne Mujhe Jo Bhi Diya Hai Waseem

Hum Ne Shukr Ke Saath Use Dil Se Lagaya Hai Sada!

Hum Ne Kabhi Shikwa-e-Taqdeer Nahin Kiya Mehfil Mein

Balke Har Dard Ko Ghazal Ka Roop Diya Hai Sada!

Waseem Ma'rifat Aur Hikmat Ka Yeh Suroor Sada Rahe Ga

Jis Ne Dilon Ko Amn Ka Paighaam Diya Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
پروفیسر وسیم بریلوی
تعارفِ شاعر

پروفیسر وسیم بریلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 18 فروری 1940 📍

زاہد حسن المعروف پروفیسر وسیمؔ بریلوی (پیدائش: 18 فروری 1940ء، بریلی، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے استادِ محترم، دانائی و وقار کے عظیم شاعر اور صاحبِ فکر و خودداری مانے جاتے ہیں۔ آپ نے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے