شاعری ہب / غزل / اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

Apne Chehre se Jo Zaahir Hai Chhupaayein Kaise Barelvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے!

گھر کا ماحول بدلنے کے لیے سوچتے ہیں

پر پرانے در و دیوار گرائیں کیسے!

ہم نے تو لٹائی ہے خلوص کی پونجی ہر سو

اب زمانے کے ستم دل پہ سجائیں کیسے!

وسیمؔ استادانہ تغزل کا یہ نکھار سدا رہے گا

جسے لفظوں کے نگینے میں پروائیں کیسے!

Apne Chehre Se Jo Zaahir Hai Chhupaayein Kaise

Teri Marzi Ke Mutaabiq Nazar Aayein Kaise!

Ghar Ka Maahol Badalne Ke Liye Sochte Hain

Par Puraane Dar-o-Deewaar Giraayein Kaise!

Hum Ne To Lutayi Hai Khaloos Ki Poonji Har Su

Ab Zamane Ke Sitam Dil Pe Sajaayein Kaise!

Waseem Ustaadana Taghazzul Ka Yeh Nikhaar Sada Rahe Ga

Jise Lafzon Ke Nageene Mein Piroyein Kaise!

غزل Urdu
Comment
پروفیسر وسیم بریلوی
تعارفِ شاعر

پروفیسر وسیم بریلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 18 فروری 1940 📍

زاہد حسن المعروف پروفیسر وسیمؔ بریلوی (پیدائش: 18 فروری 1940ء، بریلی، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے استادِ محترم، دانائی و وقار کے عظیم شاعر اور صاحبِ فکر و خودداری مانے جاتے ہیں۔ آپ نے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے