غنی خان

Ghani Khan

Modern
دسمبر 1914-15 مارچ 1996 ہشت نگر، چارسدہ, پاکستان
خان عبد الغنی خان المعروف غنیؔ خان (دسمبر 1914ء – 15 مارچ 1996ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم پشتو فلسفی شاعر، مصور، مجسمہ ساز اور صاحبِ طرز دانشور مانے جاتے ہیں۔ آپ تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما خان عبدالغفار خان (باچا خان) کے فرزندِ ارجمند اور چارسدہ (خیبر پختونخوا) میں پیدا ہوئے۔ غنی خان کی شاعری میں وجودی فلسفے، تصوف، انسانی خودداری، کائناتی حسن، شراب و معرفت اور خیبر کے غیرت مند کلچر کا وہ گہرا عکس ہے جو پشتو ادب میں بے نظیر ہے۔ انہوں نے روایتی ملا اور زاہد کے تنگ نظر تصورِ مذہب کے مقابلے میں سچے عشق، آزادیِ فکر اور انسانیت کا نعرہ بلند کیا۔ ان کی شاعری کے شاہکار مجموعوں میں 'د پنجرے چغار' (جیل کا کلام)، 'پالوشے'، 'نوے رنڑا' اور انگریزی نثری کتاب 'دی پٹھانز' (The Pathans) شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کو ستارہِ امتیاز (1980ء) اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔
ہم نے ہر دور میں عشق کا فلسفہ سمجھایا ہے غنیؔ اور تنگ نظر زاہد کی ہر دلیل کو باطل کیا ہے
Hum Ne Har Daur Mein Ishq Ka Falsafa Samjhaya Hai Ghani Aur Tang-Nazar Zaahid Ki Har Daleel Ko Baatil Kiya Hai
تفصیل دیکھیں »
یہ زندگی تری یاد میں سنور رہی ہے سدا جیسے پہاڑوں کے بیچ کوئی چشمہ پھوٹتا رہا سدا
Yeh Zindagi Teri Yaad Mein Sanwar Rahi Hai Sada Jaise Pahaadon Ke Beech Koi Chashma Phootta Raha Sada
تفصیل دیکھیں »
خودی اور غیرت ہی اصل پختون کی پہچان ہے جسے ہم نے ہر زمانے کی زنجیروں سے بچایا ہے
Khudi Aur Ghairat Hi Asal Pakhtun Ki Pehchaan Hai Jise Hum Ne Har Zamane Ki Zanjeeron Se Bachaaya Hai
تفصیل دیکھیں »
لاتون (تلاش) میں نکلا تھا کہ خدا کو دیکھ سکوں تو اس کا جلوہ ہر ذرے کے آئینے میں پایا
Latoon (Talaash) Mein Nikla Tha Ke Khuda Ko Dekh Sakoon To Us Ka Jalwa Har Zarre Ke Aayine Mein Paaya
تفصیل دیکھیں »
د پنجرے چغار (پنجرے کی فریاد) سن کر رو پڑے اہلِ چمن کہ آزادی ہی انسان کا سب سے بڑا مقدر ہے
D Panjray Chaghar (Panjre Ki Faryaad) Sun Kar Ro Pade Ahl-e-Chaman Ke Aazaadi Hi Insaan Ka Sab Se Bada Muqaddar Hai
تفصیل دیکھیں »
خیبر کی چٹانوں نے سکھائی ہے خودداری ہمیں جہاں سر کٹ سکتا ہے پر جھک نہیں سکتا کبھی
Khyber Ki Chataanon Ne Sikhaayi Hai Khuddaari Humein Jahan Sar Kat Sakta Hai Par Jhuk Nahin Sakta Kabhi
تفصیل دیکھیں »
مست شراب و معرفت کا یہ جام سدا چھلکے گا جس نے دل کے ویرانے کو گلزار بنا دیا
Masta Sharab-o-Ma'rifat Ka Yeh Jaam Sada Chhalke Ga Jis Ne Dil Ke Weerane Ko Gulzaar Bana Diya
تفصیل دیکھیں »
اے مٹی کے بت! تو خود کو خدا نہ سمجھ کہ مٹی سے بنا ہے اور مٹی میں ہی ملنا ہے
Aye Mitti Ke But! Tu Khud Ko Khuda Na Samajh Ke Mitti Se Bana Hai Aur Mitti Mein Hi Milna Hai
تفصیل دیکھیں »