صحت

ہاتھ اور پاؤں مسلسل ٹھنڈے رہنا: کس وٹامن کی کمی ہے؟ ۵ اہم اسباب، علامات اور گھریلو و طبی علاج

بزرگوں اور سننے کے شوقین قارئین کے لیے قدرتی اردو آڈیو
ہاتھ اور پاؤں مسلسل ٹھنڈے رہنا: کس وٹامن کی کمی ہے؟ ۵ اہم اسباب، علامات اور گھریلو و طبی علاج

اکثر لوگ سردیوں میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے کو عام بات سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن اگر معتدل موسم یا کمرے کے عام درجہ حرارت میں بھی آپ کے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں برف کی طرح ٹھنڈی رہتی ہوں، سن ہو جاتی ہوں یا ان کی رنگت نیلی یا پیلی پڑنے لگے، تو یہ محض موسم کا اثر نہیں بلکہ آپ کے جسم کے اندر کسی غذائی کمی یا طبی خرابی کا خاموش خطرے کا الارم ہو سکتا ہے۔

۱۔ وٹامن بی ۱۲ (Vitamin B12) کی کمی: اعصاب اور خون کا تعلق

طبی ماہرین کے مطابق ہاتھ پاؤں کی مسلسل سردی کا سب سے بڑا اور سب سے عام غذائی سبب وٹامن بی ۱۲ کی شدید کمی ہے۔ وٹامن B12 ہمارے جسم میں دو بنیادی ترین کام انجام دیتا ہے:

  • سرخ خلیات (RBCs) کی پیداوار: یہ وٹامن خون کے ان سرخ خلیات کو بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے جو پورے جسم کے بافتوں (Tissues) تک آکسیجن پہنچاتے ہیں۔ جب اس کی کمی ہوتی ہے تو پرنیشس اینیمیا (Pernicious Anemia) لاحق ہوتا ہے اور جسم کے دور دراز حصوں (ہاتھوں اور پاؤں) تک گرم خون مناسب مقدار میں نہیں پہنچ پاتا۔
  • اعصابی نظام (Myelin Sheath) کی حفاظت: وٹامن بی ۱۲ اعصاب کے گرد حفاظتی غلاف بناتا ہے۔ اس کی کمی سے پیریفیرل نیوروپیتھی (Peripheral Neuropathy) ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مریض کو ہاتھ پاؤں میں سوئیاں چبھتی محسوس ہوتی ہیں اور اعصاب ٹھنڈک کا جھوٹا یا غیر معمولی سگنل دماغ کو بھیجتے ہیں۔

۲۔ آئرن کی کمی اور اینیمیا (خون کی کمی)

خون میں آئرن کی کمی کی وجہ سے ہیموگلوبن (Hemoglobin) کی سطح گر جاتی ہے۔ ہیموگلوبن وہ پروٹین ہے جو پھیپھڑوں سے آکسیجن لے کر پورے جسم میں گردش کرتا ہے۔ جب خلیات کو مطلوبہ آکسیجن نہیں ملتی تو جسم دل اور دماغ جیسے حساس اعضاء کو گرم رکھنے کے لیے خون کا بہاؤ انگلیوں سے سمیٹ لیتا ہے، جس سے ہاتھ پاؤں ہر وقت ٹھنڈے رہتے ہیں۔

۳۔ رینود فینومینا (Raynaud’s Phenomenon): شریانوں کا اینٹھن

یہ ایک ایسی عروقی کیفیت ہے جس میں معمولی سی سردی لگنے یا شدید ذہنی دباؤ کے تحت ہاتھوں اور پاؤں کی باریک شریانیں غیر معمولی طور پر سکڑ جاتی ہیں۔ خون کا راستہ وقتی طور پر بند ہو جاتا ہے، انگلیاں پہلے سفید، پھر نیلی اور دوبارہ خون کی بحالی پر سرخ ہو کر شدید جلن اور درد کرتی ہیں۔

۴۔ تھائیرائڈ گلینڈ کی سستی (Hypothyroidism)

ہماری گردن میں موجود تھائیرائڈ گلینڈ جسم کا اندرونی تھرموسٹیٹ ہے۔ اگر یہ گلینڈ تھائیرائڈ ہارمون کم بنائے تو جسم کا میٹابولزم سست پڑ جاتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت برقرار رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد کو دوسروں سے کہیں زیادہ سردی لگتی ہے اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہیں۔

۵۔ دورانِ خون کی رکاوٹ اور شوگر (Diabetes)

خون کی شریانوں میں چربی (Plaque) جمنے سے یا ذیابیطس کے باعث اعصاب کو نقصان پہنچنے سے خون پیروں کی انگلیوں تک باآسانی نہیں پہنچ پاتا، جس کی وجہ سے پاؤں کا نچلا حصہ ہمیشہ ٹھنڈا رہتا ہے۔

وٹامن بی ۱۲ اور آئرن کے بہترین غذائی ذرائع

اگر آپ بھی اس کیفیت کا شکار ہیں تو روزمرہ خوراک میں درج ذیل قدرتی غذائیں شامل کیجیے:

  • دیسی مرغی کے انڈے: خاص طور پر زردی وٹامن B12 کا بہترین ذریعہ ہے۔
  • کلیجی اور مچھلی: بکرے کی کلیجی اور مچھلی (روہو، مشکا یا سالمن) میں آئرن اور وٹامن B12 وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔
  • پالک، میتھی اور گہرے سبز پتوں والی سبجیاں: آئرن اور فولک ایسڈ کا قدرتی ذخیرہ۔
  • اخروٹ، بادام اور خشک میوہ جات: ان میں موجود اومیگا ۳ فیٹی ایسڈز خون کی گردش کو رواں کرتے ہیں۔
  • انار، چقندر اور سیب: خون کی پیداوار کو تیز کرتے ہیں۔

ہاتھ پاؤں کو فوری گرم رکھنے کے آزمودہ گھریلو ٹوٹکے

  1. نیم گرم نمکین پانی کی ٹکور: روزانہ رات سونے سے پہلے 15 منٹ نیم گرم پانی میں تھوڑا سا نمک ملا کر پاؤں ڈبوئیں، اس سے شریانیں کھلتی ہیں اور پرسکون نیند آتی ہے۔
  2. زیتون یا سرسوں کے تیل کی ہلکی مالش: پاؤں کے تلووں پر نیم گرم سرسوں کے تیل سے ہلکا مساج کریں تاکہ خون کی گردش متحرک ہو۔
  3. پنجوں اور ایڑیوں کی ہلکی ورزش: بیٹھ کر پاؤں کی انگلیوں کو آگے پیچھے گھمائیں اور مٹھیاں کھولیں اور بند کریں۔

⚠️ ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟ اگر ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہنے کے ساتھ جلد کا رنگ مستقل نیلا رہنے لگے، پاؤں میں زخم بن جائے جو جلدی نہ بھرے، یا سینے میں کھچاؤ محسوس ہو تو فوری طور پر جنرل فزیشن سے اپنا بلڈ ٹیسٹ (CBC, Serum B12, TSH) کروائیں۔

یہ مفید معلومات شیئر کریں:
پچھلا مضمون دماغی تناؤ، اینگزائٹی اور بے خوابی کا سائنسی... اگلا مضمون جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) پیدا کرنے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے