سرِ مقتل کھڑے ہیں ہم بے خوف و خطر
Sar-e-Maqtal Khade Hain Hum
سرِ مقتل کھڑے ہیں ہم بے خوف و خطر
جان کی بازی لگا دیں گے وطن کے نام پر
نہ جھکے ہیں کبھی نہ جھکیں گے کبھی
سر کٹا دیں گے مگر سچ کے مقام پر
ظالم کے ایوان ہل جائیں گے کل
جب اٹھے گا غریب اپنے اکرام پر
ہم نے خونِ جگر سے سینچی ہے یہ زمیں
فخر ہے ہم کو اپنے اس انجام پر
جالبؔ مر کے بھی زندہ رہیں گے سدا
حق کا نغمہ لکھیں گے ہر اک شام پر
Sar-e maqtal Khare hain Hum be khauf-o-Khatar
Jaan ki bazi laga dein Ge vatan ke Naam par
Na jhuke hain kabhi na jhkin Ge kabhi
Sar kata dein Ge magar sach ke mqam par
Zalim ke aivan hal jaayein Ge kal
Jab athey Ga ghareeb Apne akram par
Hum Ne khoon-e jigar se sinchi hai yeh Zameen
Fakhr hai Hum ko Apne Is anjam par
Jalb Mar ke bhi zinda rhin Ge sada
Haq ka naghma lkhin Ge Har Ik Shaam par
حبیب جالب
حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...
