شاعری ہب / نظم / لبِ گویا (شعورِ خود آگاہی)

لبِ گویا (شعورِ خود آگاہی)

Lab-e-Goya Nazm Kishwar Naheed

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

لبِ گویا پہ جو حرفِ سچائی ہے

وہ صدیوں کے سناٹے کا جواب ہے!

ہم نے تو لکھی ہے اپنی تقدیر خود اپنے ہاتھوں

جو ہر جبر کے مقابل انقلاب ہے!

کشورؔ روشنی کی یہ کرن کبھی نہ بجھے گی

جس نے ہر مظلوم کے دل کو جگایا ہے!

Lab-e-Goya Pe Jo Harf-e-Sacchayi Hai

Woh Sadiyon Ke Sannaate Ka Jawaab Hai!

Hum Ne To Likhi Hai Apni Taqdeer Khud Apne Haathon

Jo Har Jabr Ke Muqabil Inqilaab Hai!

نظم Urdu
Comment
کشور ناہید
تعارفِ شاعر

کشور ناہید

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 18 جون 1940 — -- 📍

کشور ناہید (پیدائش: 18 جون 1940ء، بلند شہر، بھارت) اردو ادب کی تاریخ کی سب سے نڈر، بے باک، انقلابی اور صفِ اول کی نسائی و مزاحمتی شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے