شاعری ہب / غزل / وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Woh Jo Hum mein Tum mein Qaraar Tha Ghazal Momin

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو!

وہ جو لطف مجھ پہ تھے پیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو!

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی

کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو!

وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں

وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو!

جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے باوفا

میں وہی ہوں مومنِؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو!

Woh Jo Hum Mein Tum Mein Qaraar Tha Tumhein Yaad Ho Ke Na Yaad Ho

Wohi Yaani Waada Nibah Ka Tumhein Yaad Ho Ke Na Yaad Ho!

Woh Jo Lutf Mujh Pe The Pesh-Tar Woh Karam Ke Tha Mere Haal Par

Mujhe Sab Hai Yaad Zara Zara Tumhein Yaad Ho Ke Na Yaad Ho!

Kabhi Hum Mein Tum Mein Bhi Chaah Thi Kabhi Hum Se Tum Se Bhi Raah Thi

Kabhi Hum Bhi Tum Bhi The Aashna Tumhein Yaad Ho Ke Na Yaad Ho!

غزل Urdu
Comment
حکیم مومن خان مومن
تعارفِ شاعر

حکیم مومن خان مومن

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1800 — 14 مئی 1852 📍

حکیم مومن خان مومنؔ (1800ء – 14 مئی 1852ء) اردو غزل کی تاریخ کے سب سے پروقار، نازک خیال، رومان پرور اور رمز و کنایہ کے امام شاعر تھے۔ آپ دہلی میں شاہ عبد العزیز...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے