مقام: ضلع دیامیر، گلگت بلتستان (رائے کوٹ پل سے تتو گاؤں اور پھر پیدل ٹریک)
بلندی:3,300 میٹر (10,800 فٹ)
بہترین سفری موسم:جون تا ستمبر (گرمیوں میں سبزہ زار پھولوں سے ڈھک جاتا ہے)
3,300 میٹر (10,800 فٹ)بلندی / یونیسکو سال / رقبہ
جون تا ستمبر (گرمیوں میں سبزہ زار پھولوں سے ڈھک جاتا ہے)بہترین موسمی اوقات
ضلع دیامیر، گلگت بلتستان (رائے کوٹ پل سے تتو گاؤں اور پھر پیدل ٹریک)جغرافیائی دائرہ کار و صوبہ
100% مصدقہ ریکارڈPTDC و DOAM باضابطہ آرکائیو
📸 تصویری ریکارڈ: فیری میڈوز کی جادوئی چراگاہ، لکڑی کے روایتی کاٹیجز اور پس منظر میں 8,126 میٹر بلند نانگا پربت کا ہیبت ناک چہرہ۔
Source: PTDC / DOAM / Public Photo Archive
📖 ایگزیکٹو خلاصہ و جامع تفصیلی جائزہ
فیری میڈوز (Fairy Meadows)، جسے جرمن کوہ پیماؤں نے "Märchenwiese" یعنی پریوں کی چراگاہ کا نام دیا تھا اور مقامی لوگ اسے "جُوٹ" کہتے ہیں، پاکستان کی سب سے سحر انگیز اور دل دہلا دینے والی الپائن چراگاہ ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 11,000 فٹ کی بلندی پر واقع یہ چراگاہ دنیا کی 9ویں سب سے بلند اور خوفناک ترین چوٹی "نانگا پربت" (8,126 میٹر — Killer Mountain) کے عین پاؤں میں پھیلی ہوئی ہے۔ نانگا پربت کا سحر انگیز عمودی رخ (Raikot Face) فیری میڈوز کے سبزہ زاروں اور صنوبر کے درختوں کے بالکل سامنے یوں کھڑا دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی آسمان کو چھوتا ہوا دیو ہو۔ رائے کوٹ پل سے تتو گاؤں تک کچی چٹانوں پر کٹا جیپ کا راستہ دنیا کا سب سے زیادہ سنسنی خیز جیپ ٹریک مانا جاتا ہے جس کے بعد ڈھائی سے تین گھنٹے کے پُرسکون پیدل ہائیک سے سیاح اس جادوئی چراگاہ تک پہنچتے ہیں۔
"دنیا کا سب سے سنسنی خیز جیپ ٹریک، سبز مخملی میدان اور 8,126 میٹر بلند قاتل پہاڑ کا آمنے سامنے نظارہ"
باضابطہ تکنیکی، جغرافیائی و لاجسٹک تفصیلات
ریکارڈ از پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PTDC) و DOAM
بلندی
3,300 میٹر (فیری میڈوز) اور 3,967 میٹر (نانگا پربت بیس کیمپ بیا ل کیمپ)
جیپ کا سفر
شاہراہِ ریشم پر رائے کوٹ پل سے تتو گاؤں تک تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کا 4x4 ڈرائیو
پیدل ٹریک
تتو گاؤں سے فیری میڈوز تک 5 کلومیٹر خوبصورت کوہستانی ہائیک (یا گھوڑے پر سواری)
رہائش و کیمپنگ
لکڑی کے لاگ کیبنز (Log Cabins)، ٹینٹ ولیج اور مقامی گیسٹ ہاؤسز
آگے کا ٹریک
بیا ل کیمپ (Biyal Camp) اور نانگا پربت بیس کیمپ ڈے ہائیک
✨ بنیادی پرکشش مقامات و خصوصی نظارے (Highlights)
✦صبح سویرے سورج کی پہلی کرنوں سے نانگا پربت کی سنہری چوٹی کا انعکاس دیکھنا
✦چند گھنٹوں کی مزید ہائیک کر کے بیا ل کیمپ اور رائے کوٹ گلیشیئر کا قریبی نظارہ
✦صنوبر کے جنگلات میں جلائی جانے والی رات کی کیمپ فائر اور کھلے آسمان تلے کہکشاں (Milky Way) کی فوٹوگرافی
🚗 سفری رہنمائی، روٹس و رسائی (How to Reach)
اسلام آباد سے کے کے ایچ (KKH) پر چلاس کے قریب "رائے کوٹ پل" تک پہنچیں؛ رائے کوٹ پل سے مقامی منظور شدہ 4x4 ماؤنٹین جیپ کرایہ پر لے کر تتو گاؤں تک جائیں اور وہاں سے 2.5 گھنٹے کی پیدل ہائیک یا گھوڑے پر سفر کریں۔
❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات (Travel FAQs)
Q: کیا فیری میڈوز کا جیپ ٹریک خطرناک ہے؟
یہ دنیا کے سنسنی خیز ترین ٹریکس میں شمار ہوتا ہے کیونکہ سڑک تنگ اور پتھریلی ہے، تاہم یہاں صرف انتہائی تجربہ کار مقامی ڈرائیورز ہی اپنی خصوصی فور وہیل ڈرائیو جیپس چلاتے ہیں جن کا ریکارڈ محفوظ ہے۔
Q: کیا بچوں اور فیملیز کا جانا ممکن ہے؟
جی ہاں! جو لوگ پیدل نہیں چل سکتے وہ تتو گاؤں سے گھوڑے یا خچر کرایہ پر لے کر باآسانی فیری میڈوز پہنچ سکتے ہیں۔
اس سیاحتی مقام کی ویڈیو ڈاکومنٹری جلد شامل کی جا رہی ہے
اردو کوریج کی ٹیم جلد اس خوبصورت خطے کی خصوصی تصویری و ویڈیو ڈاکومنٹری اپلوڈ کرے گی۔ تازہ ترین ویڈیوز دیکھنے کے لیے ہمارا یوٹیوب چینل سبسکرائب فرمائیں۔
وادیٔ ہنزہ پاکستان کے شمالی خطے گلگت بلتستان کا وہ بین الاقوامی ہیرا ہے جسے دنیا بھر میں "زمین پر جنت کا ٹکڑا" مانا جاتا ہے۔ فلک بوس سلسلہ کوہ قراقرم کے دامن میں واقع یہ وادی 7,788 میٹر بلند راکاپوشی، الٹر سار، اور لیڈی فنگر (بوبلی موتن) جیسی دلفریب چوٹیوں سے گھری ہوئی ہے۔ ہنزہ نہ صرف اپنی قدرتی خوبصورتی بلکہ اپنے باسیوں کی غیر معمولی اوسط عمر (Longevity)، 95 فیصد سے زائد شرحِ خواندگی، اور انتہائی پرامن و مہذب طرزِ معاشرت کی بنا پر دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہاں کے تاریخی بلتت اور التت قلعے اس خطے کی 800 سالہ شاہی تاریخ کے گواہ ہیں، جبکہ 2010 کے زلزلے سے قدرتی طور پر وجود میں آنے والی فیروزی رنگ کی عطا آباد جھیل کشتی رانی اور واٹر اسپورٹس کا دلکش مرکز بن چکی ہے۔
اسکردو بلتستان کا دل اور دنیا کی سب سے اونچی چوٹیوں (کے ٹو، براڈ پیک، گاشر برم) کو سر کرنے والے بین الاقوامی کوہ پیماؤں کا تاریخی گیٹ وے ہے۔ سطح سمندر سے 7,300 فٹ بلندی پر واقع اسکردو قدرت کے عجائبات کا ایک ایسا مجموعہ ہے جہاں بیک وقت ریتلے صحرا، برف پوش گلیشیئرز، بل کھاتے دریا اور فیروزی جھیلیں ایک ہی وادی میں موجود ہیں۔ یہاں دنیا کا بلند ترین سرد ریگستان "سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ" واقع ہے جہاں سفید ریت کے ٹیلوں پر جیپ ریلی اور پیرا گلائیڈنگ ہوتی ہے۔ اسکردو کی شنگریلا جھیل (لوئر کچورا) اور اپر کچورا کی جادوئی قدرتی جھیلیں دنیا بھر کے سیاحوں کو مسحور کر دیتی ہیں۔ جگلوٹ تا اسکردو اسٹریٹجک روڈ کی ازسرنو جدید کشادگی اور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے فعال ہونے کے بعد اسکردو تک رسائی تاریخ کی آسان ترین سطح پر آ چکی ہے۔
وادیٔ سوات، جسے ملکہ الزبتھ دوم نے 1961 میں "مشرق کا سوئٹزرلینڈ" (Switzerland of the East) قرار دیا تھا، پاکستان کی سب سے سرسبز، زرخیز اور خوشگوار ترین سیاحتی وادی ہے۔ خیبر پختونخوا میں واقع یہ خطہ بلند و بالا پہاڑوں، گھنے دیودار کے جنگلات، اور بل کھاتے دریائے سوات کے شفاف نیلگوں پانیوں پر مشتمل ہے۔ سوات ایکسپریس وے (M-16) کی تکمیل نے اسلام آباد اور پشاور سے سوات کا فاصلہ محض 3 سے ساڑھے تین گھنٹے تک سمیٹ دیا ہے جس سے یہ ملک کا سب سے باآسانی قابلِ رسائی پہاڑی خطہ بن چکا ہے۔ وادی کے مرکزی پرکشش مقامات میں مالم جبہ کا بین الاقوامی اسکی ریزارٹ اور زپ لائن، وادیٔ کالام، اور 9,400 فٹ بلندی پر واقع مسحور کن مہوڈنڈ جھیل شامل ہیں۔
وادیٔ نیلم آزاد جموں و کشمیر کی سب سے طویل، زرخیز اور مسحور کن وادی ہے جو مظفرآباد کے دارالحکومت کے بالکل شمال سے شروع ہو کر پاک و ہند لائن آف کنٹرول (LoC) کے متوازی 240 کلومیٹر تک وادی تاؤبٹ تک پھیلی ہوئی ہے۔ دریائے نیلم کے دونوں کناروں پر پھیلی اس وادی کے گھنے چیڑ اور اخروٹ کے جنگلات، دودھیا آبشاریں، اور روایتی لکڑی کے کشمیری گھر سیاحوں کے دل موہ لیتے ہیں۔ وادی کا تاریخی قصبہ "شاردا" نہ صرف اپنے قدرتی حسن بلکہ 2,000 سال قدیم ہندو اور بدھ مت کے مشہور علمی مرکز "شاردا پیٹھ یونیورسٹی" کے تاریخی کھنڈرات کی وجہ سے عالمی اہمیت کا حامل ہے۔ شاردا کے مضافات میں وادیٔ کیل کے اوپر 8,379 فٹ بلندی پر واقع "اڑنگ خیل" گاؤں کو وادیٔ نیلم کا موتی کہا جاتا ہے۔
وادیٔ کاغان پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کا وہ لازوال قدرتی حسن ہے جو دریائے کنہار کے متوازی 155 کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس وادی کا سب سے درخشاں موتی "جھیل سیف الملوک" ہے جو سطح سمندر سے 10,578 فٹ کی بلندی پر ایک پیالے نما برفانی وادی میں واقع ہے اور پس منظر میں واقع 5,290 میٹر بلند ملکہ پربت کے دامن کو چھوتی ہے۔ میاں محمد بخش کے معروف صوفیانہ کلام کے مطابق یہ جھیل شہزادہ سیف الملوک اور کوہِ قاف کی پری بدیع الجمال کی داستانِ محبت کا مسکن ہے۔ کاغان وادی شوگران کے مسحور کن سرسبز پلوٹو، سری پائے میڈوز، آنسو جھیل، دودھی پت سر جھیل، لولوسر جھیل اور گلگت بلتستان کی سرحد پر واقع 13,691 فٹ بلند "بابوسر ٹاپ" تک پھیلی ہوئی ہے۔ ہزارہ موٹروے (M-15) کی بدولت اب اسلام آباد سے ناران کا سفر محض 4 سے 5 گھنٹے میں آرام سے طے ہو جاتا ہے۔
وادیٔ کمراٹ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں واقع ایک ایسا قدرتی جنت نظیر خطہ ہے جو اپنی پرسکون فضا، سو فٹ بلند دیودار (Deodar) کے آسمان چھوتے گھنے جنگلات اور دودھیا دریائے پنجکوڑہ کے شفاف پانیوں کے باعث مشہور ہے۔ شور مچاتے شہروں سے دور، کمراٹ قدرت سے ہم کلام ہونے کے لیے پاکستان کا بہترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ وادی کا مرکزی پوائنٹ کمراٹ کا دیو ہیکل جھرنا (Kumrat Waterfall) اور دو آبہ ہے جہاں ندی نالے ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے ہیں۔ کمراٹ سے جیپ اور پیدل ہائیکنگ کے ذریعے سطح سمندر سے 10,200 فٹ بلندی پر واقع "جہاز بانڈہ" کے وسیع و عریض الپائن سبزہ زاروں تک پہنچا جاتا ہے، جہاں سے آگے قدرتی پتھریلے پیالے جیسی محیر العقول "کٹورا جھیل" واقع ہے۔ کمراٹ میں قدرتی گلیمپنگ، لکڑی کے کاٹیجز اور لکڑی کے تختوں پر بنے خیمے سیاحوں کے لیے خواب ناک ماحول پیدا کرتے ہیں۔
وادیٔ کلاش اور چترال پاکستان کا وہ انتہائی نایاب اور طلسماتی خطہ ہے جہاں کی تاریخ اور ثقافت دنیا کی تمام تہذیبوں سے منفرد ہے۔ سلسلہ کوہ ہندوکش کی بلند و بالا گھاٹیوں میں چھپی تین چھوٹی وادیاں "بمبوریت، رمبور اور بریر" کلاش قبیلے کا مسکن ہیں۔ کلاش لوگ قدیم دور کے روایتی عقائد (Paganism) پر قائم ہیں اور ان کی روایات سکندرِ اعظم کی یونانی افواج سے جا ملتی ہیں۔ کلاش خواتین کالے اونی لبادوں اور کوڑیوں و سیپیوں سے بنی دلکش ٹوپیوں کے ساتھ روایتی ڈھول کی تھاپ پر سحر انگیز رقص کرتی ہیں۔ سال میں تین بڑے تہوار چلم جوش (موسمِ بہار، مئی)، اوچال (موسمِ گرما، اگست) اور چوموس (موسمِ سرما، دسمبر) منائے جاتے ہیں جنہیں دیکھنے دنیا بھر سے سیاح امڈ آتے ہیں۔ چترال شہر میں مغل و وسطی ایشیائی طرز پر بنی خوبصورت شاہی مسجد، چترال قلعہ اور پس منظر میں 7,708 میٹر بلند ہندوکش کی سب سے اونچی چوٹی "ترچ میر" سیاحوں کو مبہوت کر دیتی ہے۔ جدید لواری ٹنل نے چترال کو سارا سال ہر موسم میں رسائی کے قابل بنا دیا ہے۔
وادیٔ نلتر گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے محض 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک ایسا زمردیں نگینہ ہے جو بیک وقت اپنے طلسماتی رنگ بدلنے والی جھیلوں اور پاکستان کے سرفہرست سرمائی کھیلوں کے مرکز کے طور پر دنیا بھر میں مانا جاتا ہے۔ وادی کا سب سے دلکش عجوبہ "سترنگی جھیل" (Satrangi Lake) ہے جس کے انتہائی شفاف پانی میں جھیل کے اندر موجود مختلف کائیوں، جڑی بوٹیوں اور پانی کے معدنی انعکاس کی وجہ سے بیک وقت نیلا، سبز، پیلا اور فیروزی سمیت سات رنگ جھلکتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے آگے کٹورا نما "نیلی جھیل" (Blue Lake) اور "پری جھیل" (Pari Lake) اپنی ٹھنڈی گہرائیوں اور ارد گرد پھیلے صنوبر اور دیودار کے جنگلات کے ساتھ سیاحوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ سردیوں میں جب وادی پر کئی فٹ برف کی سفید چادر تَن جاتی ہے تو یہاں پی اے ایف نلتر اسکی ریسارٹ پر بین الاقوامی اسکی چیمپئن شپ منعقد ہوتی ہے جہاں چیئر لفٹ اور جدید اسنو سنوکرز دستیاب ہوتے ہیں۔
وادیٔ استور گلگت بلتستان کا وہ جادوئی ضلع ہے جو کوہِ ہمالیہ کے دامن میں 120 کلومیٹر کی لمبائی میں پھیلا ہوا ہے۔ اس وادی کو قدرت نے ایسے محیر العقول خدوخال سے نوازا ہے کہ یہاں ایک طرف نانگا پربت کی مشہور زمانہ "روپل فیس" (Rupal Face) واقع ہے جو کہ سطح زمین سے 4,600 میٹر (15,000 فٹ) بلند دنیا کی سب سے بڑی عمودی چٹانی دیوار مانی جاتی ہے۔ وادی کا مرکزی سیاحتی نگینہ "راما میڈوز" (Rama Meadows) ہے جو صدیوں پرانے صنوبر، چنار اور برچ کے گھنے جنگلوں اور سرسبز مرغزاروں پر مشتمل ہے جس کے بیچوں بیچ سے دودھیا چشمے بہتے ہیں۔ راما میڈوز سے ڈیڑھ گھنٹے کے ٹریک پر ایک گلیشیئر کے دامن میں "راما جھیل" مسافروں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہے۔ استور کی وادی منی مرگ میں واقع "رینبو جھیل" (Rainbow Lake) دنیا کی خوبصورت ترین الپائن جھیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ استور سے ہی ایک پرشکوہ جیپ ٹریک چلم چوکی کے راستے براہ راست دنیا کے دوسرے بلند ترین سطح مرتفع "دیوسائی نیشنل پارک" میں داخل ہوتا ہے۔
گلیات کا پہاڑی خطہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں واقع ہے جو اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کے لیے سب سے پسندیدہ، ٹھنڈا اور پرسکون کوہستانی تفریحی مقام ہے۔ اس خطے کا تاج "نتھیا گلی" ہے جو سطح سمندر سے 8,000 فٹ کی بلندی پر دیودار، چیڑ اور اخروٹ کے گھنے جنگلات میں گِھرا ہوا ہے۔ گرمیوں میں یہاں درجہ حرارت شاذ و نادر ہی 25 ڈگری سے اوپر جاتا ہے اور دن کے وقت روئی کے گالوں کی طرح بادل سڑکوں اور لان میں تیرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے "مشک پوری ٹاپ" (2,800 میٹر) اور "میرانجانی پیک" (2,992 میٹر) کے ٹریکس پاکستان کے مقبول ترین ڈے ہائیکنگ ٹریکس ہیں جہاں چوٹی پر کھڑے ہو کر آزاد کشمیر کی جہلم وادی اور نانگا پربت تک کے نظارے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈونگا گلی سے ایوبیہ تک 4 کلومیٹر طویل برطانوی دور کا "پائپ لائن ٹریک" خاندانوں اور بچوں کے لیے بالکل ہموار اور سرسبز واک وے فراہم کرتا ہے۔ ایوبیہ نیشنل پارک، چیئر لفٹ اور لکڑی کا خوبصورت ۱۸۶۸ء کا سینٹ میتھیوز چرچ اس علاقے کے تاریخی و قدرتی حسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔
وادیٔ زیارت صوبہ بلوچستان کا سب سے سرسبز، پرفضا اور تاریخی ہل اسٹیشن ہے جو دنیا کے دوسرے سب سے بڑے اور قدیم ترین صنوبر (Juniper / دیودار کے متبادل) کے جنگلات کا مسکن ہے۔ سطح سمندر سے ۸,۰۵۰ فٹ کی بلندی پر واقع یہ وادی تپتے ہوئے بلوچستان کے ریگزاروں اور پتھریلے پہاڑوں کے درمیان ایک جادوئی قدرتی نخلستان ہے جہاں موسمِ گرما میں بھی درجہ حرارت انتہائی خوشگوار رہتا ہے جبکہ سردیوں میں وادی برف کی سفید چادر اوڑھ لیتی ہے۔ زیارت کی سب سے اہم تاریخی پہچان "قائد اعظم ریزیڈنسی" ہے، جہاں بانیٔ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ۱۹۴۸ء میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ لکڑی اور پتھر سے بنی یہ دو منزلہ برطانوی نوآبادیاتی عمارت اپنے وسیع لانز، چنار کے درختوں اور گلاب کے باغات کے ساتھ قومی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے۔ ۲۰۱۳ء میں یونیسکو نے زیارت کے جونیپر فارسٹ کو "بایوسفیئر ریزرو" قرار دیا جس کے درختوں کی اوسط عمر ۵ ہزار سے ۷ ہزار سال تک بتائی جاتی ہے۔
وادیٔ پھندر گلگت بلتستان کے ضلع غذر کا وہ چھپا ہوا ہیرا ہے جسے اکثر دنیا کا پرامن ترین اور خوابناک قدرتی گاؤں کہا جاتا ہے۔ یہ وادی گلگت اور چترال کو ملانے والی تاریخی شندور شاہراہ پر دریائے غذر کے ایک چوڑے نخلستان میں واقع ہے۔ پھندر کی خاص ترین پہچان "پھندر جھیل" ہے جس کا پانی گہرا فیروزی اور کوبالٹ نیلا (Deep Cobalt Blue) ہے، اور یہ اتنی شفاف ہے کہ تہہ میں تیرتی ہوئی رینبو ٹراؤٹ اور براؤن ٹراؤٹ مچھلیاں سطح پر کھڑے ہو کر واضح دیکھی جا سکتی ہیں۔ وادی کے اطراف بلند سرمئی چٹانوں کے دامن میں سرسبز گھاس کے مخملی میدان، پاپولر کے قطار در قطار درخت اور روایتی لکڑی کے مکانات بچھے ہیں۔ ہر سال جولائی میں جب دنیا کے بلند ترین "شندور پولو فیسٹیول" کا انعقاد ہوتا ہے تو دنیا بھر کے سیاح پھندر میں قیام کر کے اس تاریخی کھیل اور وادی کی سحر انگیزی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
وادیٔ شگر گلگت بلتستان کی سب سے زرخیز، شاہی اور ثقافتی اعتبار سے متمول وادی ہے جو دریائے شگر کے کنارے سلسلہ کوہ قراقرم کے قلب میں واقع ہے۔ یہ وادی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی "کے ٹو" (K2) اور بالتورو گلیشیئر کا تاریخی اور روایتی زمینی گیٹ وے ہے جہاں سے دنیا بھر کے مہم جو اپنی کوہ پیمائی مہمات شروع کرتے ہیں۔ وادی کا سب سے بڑا ثقافتی تاج "قلعہ شگر" (Fong-Khar) ہے جو سترہویں صدی میں راجہ حسن خان نے ایک چٹان پر تعمیر کروایا تھا۔ لکڑی اور پتھر کے ملاپ سے بننے والے اس قلعے کو آغا خان کلچرل سروسز نے ازسرنو بحال کر کے ایک عالمی شہرت یافتہ ہیریٹیج سرینا ہوٹل میں تبدیل کیا ہے۔ شگر میں داخل ہوتے ہی دنیا کا بلند ترین سرد صحرا "سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ" آتا ہے جہاں ریت کے سفید ٹیلوں کے بالکل پیچھے برفانی پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں۔ وادی میں واقع ۱۴ویں صدی کی "امبورک مسجد" خطے میں اسلام کی آمد کا قدیم ترین شاہکار ہے۔
وادیٔ خپلو (ضلع گنگچھے کا صدر مقام) پاکستان کے انتہائی شمال مشرقی کونے میں واقع وہ طلسماتی وادی ہے جہاں تاریخ، روحانیت اور قدرتی جاہ و جلال باہم یکجا ہیں۔ دریائے شیوک اور دریائے ہوشے کے سنگم پر واقع اس وادی کو صدیاں قبل "یبگو خاندان" کے راجاؤں نے اپنا تخت بنایا تھا جو لداخ اور تبت کے شاہی سلسلوں سے تعلق رکھتے تھے۔ خپلو کا سب سے بڑا شاہکار "قلعہ خپلو" (Yabgo Khar Palace) ہے جو ۱۸۴۰ء میں تعمیر ہوا تھا۔ چار منزلہ لکڑی کے بالکونیوں، تراشیدہ کھڑکیوں اور تبتی و مغل طرز کے ملاپ سے بننے والے اس محل کو آغا خان ٹرسٹ نے تاریخی ورثے کے اعلیٰ ترین معیار پر بحال کیا ہے۔ وادی کے عین مرکز میں سطح سمندر سے اونچائی پر ۷۰۰ سال قدیم "چقچن مسجد" (Chaqchan Mosque) واقع ہے جسے ۱۳۷۰ء میں میر سید علی ہمدانیؒ نے لکڑی کی روایتی ایرانی اور تبتی نقاشی پر تعمیر کروایا تھا، جس میں بغیر لوہے کے کیلوں کے صرف لکڑی کے جوڑوں سے کام لیا گیا ہے۔ خپلو سے آگے وادیٔ ہوشے دنیا کی ۲۲ویں بلند ترین چوٹی "ماشا برم" (K1 — 7,821 میٹر) کا بیس کیمپ ہے۔
وادیٔ لیپہ آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے مشرق میں واقع وہ مسحور کن خطہ ہے جس کے قدرتی حسن کو اکثر سوئٹزرلینڈ کے الپائن دیہات سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ سطح سمندر سے ۶,۳۰۰ فٹ کی بلندی پر واقع یہ وادی پہاڑوں کے دامن میں کٹے ہوئے سیڑھی نما چاول کے کھیتوں (Terraced Rice Fields) کی وجہ سے دنیا بھر کے فوٹوگرافرز کے لیے ایک زندہ کینوس ہے۔ لیپہ کے باسیوں کے گھر خالص چیڑ اور دیودار کی لکڑی سے تین تین منزلہ بنائے جاتے ہیں جن کی چھتیں سرخ اور پیلے رنگ کی ٹن کی چادروں سے چمکتی ہیں۔ وادی اپنے نایاب سرخ چاول (Red Rice)، کشمیری اخروٹ، اور میٹھے شہد جیسے سیبوں کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ مظفرآباد سے لیپہ پہنچنے کے لیے ۱۰,۵۰۰ فٹ بلند "ریشیاں گلی پاس" (Reshian Gali Pass) کو عبور کرنا پڑتا ہے جہاں سے نیچے وادی کا فضائی نظارہ آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے۔ اگست اور ستمبر کے مہینوں میں جب چاول کی فصل پک کر تیار ہوتی ہے تو پوری وادی زرد اور زمردین رنگوں میں جگمگا اٹھتی ہے۔
بنجوسہ جھیل اور تولی پیر آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے دو سب سے مشہور اور پُرفضا جڑواں سیاحتی مقامات ہیں جو راولاکوٹ شہر کے دامن میں واقع ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سے محض ۳ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہونے کے باعث یہ فیملیز اور سیاحوں کا سب سے پسندیدہ ویک اینڈ ٹرپ مانا جاتا ہے۔ بنجوسہ جھیل سطح سمندر سے ۶,۵۰۰ فٹ کی بلندی پر ایک قدرتی پیالے میں گھنے پائن، چیڑ اور چیری کے جنگلات کے درمیان واقع ہے جس کے گرد حکومت اور نجی اداروں کے سرخ چھتوں والے دلکش لکڑی کے ریسٹ ہاؤسز بنے ہوئے ہیں۔ جھیل کے شفاف پانی میں کشتی رانی کا تجربہ روح کو تازگی بخشتا ہے۔ بنجوسہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ۸,۸۰۰ فٹ بلند "تولی پیر" کی سرسبز چوٹی واقع ہے، جہاں پہنچ کر سیاحوں کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ بادلوں کے اوپر تیر رہے ہوں۔ تولی پیر پر وسیع مخملی گھاس کے میدان، پرانی درگاہ کے آثار اور بیک وقت دریائے پونچھ اور پیر پنجال کی وادیوں کا فضائی منظر ملتا ہے۔
گورکھ ہِل اسٹیشن (Gorakh Hill Station) صوبہ سندھ کا واحد اور منفرد ترین الپائن ہل اسٹیشن ہے جسے پیار سے "سندھ کا مری" کہا جاتا ہے۔ بلوچستان اور سندھ کی سرحد پر سلسلہ کوہِ کیرتھر کی سب سے اونچی چوٹی پر واقع یہ مقام سطح سمندر سے ۵,۶۸۸ فٹ کی بلندی پر ایک ہموار سطح مرتفع (Plateau) پر پھیلا ہوا ہے۔ گورکھ کی سب سے حیرت انگیز خصوصیت اس کی غیر معمولی ٹھنڈی آب و ہوا ہے؛ جب سندھ کے میدانی علاقوں (دادو، لاڑکانہ، نواب شاہ) میں گرمی کا پارہ ۴۵ سے ۵۰ ڈگری تک پہنچ جاتا ہے تو گورکھ ہل پر ٹھنڈی تیز ہوائیں چلتی ہیں اور رات کا درجہ حرارت ۱۵ سے ۱۸ ڈگری تک گر جاتا ہے، جبکہ موسمِ سرما میں یہاں پارہ نقطۂ انجماد سے نیچے منفی ۵ ڈگری تک چلا جاتا ہے اور ہلکی برف باری کے مناظر بھی دیکھے جاتے ہیں۔ گورکھ ہِل کا "سن سیٹ پوائنٹ" اور "بینفش ویو پوائنٹ" غروبِ آفتاب کا وہ تاریخی منظر پیش کرتے ہیں جہاں سنہری سورج کیرتھر کے ناہموار پہاڑوں کے پیچھے سمندر کی لہروں کی طرح ڈوبتا ہے۔ رات کے وقت آلودگی سے پاک آسمان پر ملکی وے کہکشاں (Milky Way) اور ستاروں کی فوٹوگرافی کے لیے یہ ملک کا بہترین مقام مانا جاتا ہے۔
وادیٔ سون (Soon Valley) صوبہ پنجاب کے سلسلہ کوہِ نمک (Salt Range) کے وسط میں واقع ایک سرسبز، زرخیز اور تاریخی الپائن وادی ہے جس کا رقبہ تقریباً ۳۰۰ مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ وادی پنجاب کے گرم میدانی علاقوں کے بالکل برعکس ۵,۰۱۰ فٹ بلند "سکیسر چوٹی" کے دامن میں واقع ہے جس کی وجہ سے اس کا موسم سال بھر خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ وادیٔ سون کا سب سے بڑا حسن اس کی قدرتی کھارے اور میٹھے پانی کی جھیلیں ہیں جن میں "اوچھالی جھیل" (Uchali Lake) اور "کھبیکی جھیل" (Khabikki Lake) کو بین الاقوامی ماحولیاتی تحفظ کے "رامسر کنونشن" (Ramsar Convention) کے تحت محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ موسمِ سرما میں سائبیریا اور روس سے نایاب سفید سر والی بطخیں (White-headed Duck) اور راج ہنس ہزاروں میل کا سفر طے کر کے ان جھیلوں پر ڈیرہ ڈالتے ہیں۔ وادی میں واقع "کنہاٹی باغ" (Kanhatti Garden) برطانوی دور کا تاریخی پھلوں اور جھرنوں کا باغ ہے جہاں چشموں کا ٹھنڈا پانی آبشاروں کی صورت گرتا ہے۔ وادی میں موجود پرانے ہندو مندروں کے آثار اور لکڑی کی پرانی حویلیاں اس کے قدیم ماضی کی گواہ ہیں۔