شیخ ایاز
Shaikh Ayaz
Modern
23 مارچ 1923-28 دسمبر 1997
شکارپور / بھٹ شاہ، سندھ, پاکستان
شیخ مبارک علی المعروف شیخ ایازؔ (23 مارچ 1923ء – 28 دسمبر 1997ء) بیسویں صدی کے عظیم ترین سندھی اور اردو زبان کے عبقری انقلابی و رومانی شاعر، مفکر، ادیب اور وائس چانسلر مانے جاتے ہیں۔ آپ شکارپور (سندھ، برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے اور جدید سندھی ادب کو عالمی سطح پر روشناس کرایا۔ انہیں 'جدید سندھی شاعری کا شاہ عبداللطیف بھٹائی' کہا جاتا ہے۔ شیخ ایاز نے سندھی زبان کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بے مثال غزلیں اور نظمیں لکھیں، ان کا پہلا اردو مجموعہ 'بوئے گل، نالۂ دل' (1954ء) اور 'نیل کنٹھ اور نیم کے پتے' اردو شاعری کے شاہکار ہیں۔ آپ نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے 'شاہ جو رسالو' کا لازوال منظوم اردو ترجمہ کر کے سندھی اور اردو ادب کے درمیان محبت کا تاریخ ساز پُل تعمیر کیا۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کو ستارہِ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کا مزار صوفی بزرگ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزار کے احاطے میں واقع بھٹ شاہ، سندھ میں مرجعِ خلائق ہے۔
ہم نے ہر دور میں پیار کا گیت گایا ہے ایازؔ
اور انسانیت کے وقار کو سدا سر بلند رکھا ہے
Hum Ne Har Daur Mein Pyaar Ka Geet Gaya Hai Ayaz
Aur Insaaniyat Ke Waqaar Ko Sada Sar-Buland Rakha Hai
شامِ بھٹ شاہ کے سناٹے میں جب تانپورہ بجتا ہے
تو روح کو ابدی سکون اور بندگی ملتی ہے
Shaam-e-Bhitt Shah Ke Sannaate Mein Jab Taanpoora Bajta Hai
To Rooh Ko Abadi Sukoon Aur Bandagi Milti Hai
یہ زندگی تری یاد میں سنور رہی ہے سدا
جیسے چمن میں کوئی نغمہ گونجتا رہا سدا
Yeh Zindagi Teri Yaad Mein Sanwar Rahi Hai Sada
Jaise Chaman Mein Koi Naghma Goonjta Raha Sada
سندھ کی دھرتی پہ جب بھی کوئی ظلم ہوا ایازؔ
ہم نے اپنے لہو سے آزادی کا نغمہ لکھا
Sindh Ki Dharti Pe Jab Bhi Koi Zulm Hua Ayaz
Hum Ne Apne Lahoo Se Aazaadi Ka Naghma Likha
شاہ جو رسالو کا ہر اک بیت ہے نورِ الٰہی
جس نے صوفی کے دل کو خدا کا گھر بنا دیا
Shah Jo Risalo Ka Har Ik Bayt Hai Noor-e-Elaahi
Jis Ne Soofi Ke Dil Ko Khuda Ka Ghar Bana Diya
نیل کنٹھ اور نیم کے پتے گواہی دیتے ہیں
کہ ہم نے ہر موسم میں سچائی کی راہ اپنائی
Neel Kanth Aur Neem Ke Patte Gawaahi Dete Hain
Ke Hum Ne Har Mausam Mein Sacchayi Ki Raah Apnayi
مہران کے پانیوں میں بہتی ہے محبت کی خوشبو
جسے کبھی نفرت کی آگ جلا نہیں سکتی
Mehran Ke Paaniyon Mein Bahti Hai Mohabbat Ki Khushboo
Jise Kabhi Nafrat Ki Aag Jala Nahin Sakti
بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
Boye Gul, Nala-e-Dil, Dood-e-Chiraagh-e-Mehfil
Jo Teri Bazm Se Nikla So Pareshaan Nikla
