شاعری ہب / غزل / زندگی کے سفر میں اکیلے تھے ہم

زندگی کے سفر میں اکیلے تھے ہم

Zindagi ke Safar mein Akele The Hum Shakeel Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

زندگی کے سفر میں اکیلے تھے ہم

تری یاد کا سہارا ملا تو جینے لگے!

ہم تو ڈوب رہے تھے غموں کے سمندر میں

اک نظر ترے کرم کی ملی تو جینے لگے!

شکیلؔ اس بزم میں تیرے ہی دم سے بہار ہے

جامِ الفت جو ترے ہاتھ سے پینے لگے!

Zindagi Ke Safar Mein Akele The Hum

Teri Yaad Ka Sahara Mila To Jeene Lage!

Hum To Doob Rahe The Ghamon Ke Samundar Mein

Ik Nazar Tere Karam Ki Mili To Jeene Lage!

غزل Urdu
Comment
شکیل بدایونی
تعارفِ شاعر

شکیل بدایونی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 3 اگست 1916 — 20 اپریل 1970 📍

شکیل احمد بدایونی (3 اگست 1916ء – 20 اپریل 1970ء) برصغیر کے تاریخ ساز، بے مثل غزل گو اور سینما تاریخ کے سب سے رومان پرور و مقبول ترین نغمہ نگار تھے۔ آپ بدایوں (اتر...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے