شاعری ہب / غزل / زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

Zamistani Hawa mein Garche Thi Shamshir ki Tezi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی

کہیں سرمایۂ محفل تھی میری گرم گفتاری

کہیں سب کو پریشاں کر گئی میری کم آمیزی

زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا

طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

سواد رومۃ الکبرےٰ میں دلی یاد آتی ہے

وہی عبرت وہی عظمت وہی شان دل آویزی

Zmastani Hawa Mein Garcha Thi Shamsheer Ki Taizi

Na Chhoote Mujh Se London Mein Bhi Adab-E-Sehar Khaizi

Kahin Sarmaya’ay Mehfil Thi Meri Garam Guftari

Kahin Sub Ko Preshan Kar Gyi Meri Kam Amaizi

Zamam-E-Kaar Agar Mazdoor Ke Hathon Mein Ho Phir Kya!

Tareeq-E-Kohkan Mein Bhi Wohi Heelay Hain Parvaizi

Jalal-E-Padshahi Ho K Jamhoori Tamasha Ho

Juda Ho Deen Siasat Se To Reh Jati Hai Changaizi

Sawad-E-Ruma-Tul-Kubra Mein Dilli Yaad Ati Hai

Wohi Ibrat, Wohi Azmat, Wohi Shaan-E-Dil-Awaizi

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے