شاعری ہب / نظم / یہ بچہ کس کا بچہ ہے (شاہکار دردمندانہ نظم)

یہ بچہ کس کا بچہ ہے (شاہکار دردمندانہ نظم)

Yeh Bacha Kis ka Bacha Hai Nazm Insha

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ بچہ کس کا بچہ ہے؟

جو گلیوں میں ننگے پاؤں بھٹک رہا ہے!

نہ اس کے تن پہ قبا ہے نہ سر پہ سایہ

اور بھوک سے اس کا معصوم چہرہ لٹک رہا ہے!

اے دنیا والو! یہ تمہاری بے حسی کا نوحہ ہے

جہاں انسان کا بچہ روٹی کے لیے بلک رہا ہے!

انشاؔ قلم سے آنسو بہاؤ اس دکھ کے منظر پر

جو ہر صاحبِ دل کو اندر سے جھنجھوڑ رہا ہے!

Yeh Bacha Kis Ka Bacha Hai?

Jo Galiyon Mein Nange Paaon Bhatak Raha Hai!

Na Us Ke Tan Pe Qaba Hai Na Sar Pe Saaya

Aur Bhook Se Us Ka Masoom Chehra Latak Raha Hai!

نظم Urdu
Comment
ابنِ انشا
تعارفِ شاعر

ابنِ انشا

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 15 جون 1927 — 11 جنوری 1978 📍 فلور (جالندھر) / کراچی / لندن، پاکستان

شیر محمد خاں المعروف ابنِ انشا (15 جون 1927ء – 11 جنوری 1978ء) اردو ادب کی تاریخ کے منفرد ترین، پرسوز، درویش صفت شاعر، ممتاز مزاح نگار اور شہرۂ آفاق سیاح و سفرنامہ نگار تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے