شاعری ہب / غزل / وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ

وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ

Waqt Achha bhi Aayega Nasir

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ

غم نہ کر زندگی سنور جائے گی

گرچہ اب تیرہ و تار ہیں راتیں

روشنی صبح کی بکھر جائے گی

ہجر کی دھوپ میں جلے ہیں بہت

وصل کی چھاؤں بھی اتر جائے گی

دل کے ویرانے میں کھلیں گے گل

غم کی ہر داستان گزر جائے گی

صبر کی ڈور کو سنبھالے رکھ

تیری فریاد بھی سنور جائے گی

Waqt Achha bhi aaye Ga nasr

Gham na kar Zindagi snor jae gi

Grchh ab tera-o-Taar hain Raatein

Roshni Subh ki bkhr jae gi

Hijr ki dhoop mein jley hain bahut

Osl ki chhaon bhi Uttar jae gi

Dil ke oiraney mein khlin Ge Gul

Gham ki Har dastaan gazar jae gi

Sabr ki dor ko snbhaley rakh

Teri faryad bhi snor jae gi

غزل
Comment
ناصر کاظمی
تعارفِ شاعر

ناصر کاظمی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 8 دسمبر 1925 — 2 مارچ 1972 📍

سید ناصر رضا کاظمی المعروف ناصر کاظمی (8 دسمبر 1925ء – 2 مارچ 1972ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، صاحبِ طرز اور جدید غزل کے بانی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ انبالہ (برطانوی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے