شاعری ہب / حمد / تو ہے ہر درد کی دوا تو ہے ہر غم کا مداوا

تو ہے ہر درد کی دوا تو ہے ہر غم کا مداوا

Tu Hai Har Dard ki Dawa Tu Hai Har Gham ka Mudawa

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تو ہے ہر درد کی دوا

تو ہے ہر غم کا مداوا

بیماروں کو تو شفا بخشے

بے سہاروں کو تو پناہ بخشے

امیرؔ تیرے در کا غلام ہے

تیری ہی حمد کا پیام ہے

To hai Har dard ki dawa

To hai Har Gham ka mdaoa

Bimaron ko to shifa bkhshey

Be sharon ko to panah bkhshey

Amir Tere Dar ka Ghulam hai

Teri hi Hamd ka Payam hai

حمد
Comment
امیر مینائی
تعارفِ شاعر

امیر مینائی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1828 — 1900 📍 لکھنؤ، انڈیا

مشہور و معروف شاعر و ادیب تھے۔ وہ 1828ء میں شاہ نصیر الدین شاہ حیدر نواب اودھ کے عہد میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ امیر احمد نام مولوی کرم محمد کے بیٹے اور مخدوم شاہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے