شاعری ہب / غزل / تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر

تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر

Tu Abhi Rahguzar mein Hai Qaid-e-Maqam se Guzar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر

مصر و حجاز سے گزر پارس و شام سے گزر

جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے

حور و خیام سے گزر بادہ و جام سے گزر

گرچہ ہے دل کشا بہت حسن فرنگ کی بہار

طائرک بلند بام دانہ و دام سے گزر

کوہ شگاف تیری ضرب تجھ سے کشاد شرق و غرب

تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور

ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر

Tu abhi rahguzar mein hai qaid-e-maqaam se guzar

Misr o Hijaz se guzar, Paras o Shaam se guzar

Jis ka amal hai be-garaz us ki jazaa kuch aur hai

Hoor o Khiyam se guzar, baada-o-jaam se guzar

Garchhe hai dil-kusha bahut husn-e-Farang ki bahaar

Taairak-e-buland-bam daana-o-daam se guzar

Koh-shigaaf teri zarb tujh se kushad-e-sharq-o-gharib

Tegh-e-Hilal ki tarah aish-e-niyam se guzar

Tera imaam be-huzoor, teri namaaz be-suroor

Aisi namaaz se guzar, aise imaam se guzar

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے