شاعری ہب / غزل / صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم

صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم

Subh-e-Nou ka Suraagh Dhoondte Hain Hum Khatir

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم خاطرؔ

تا کہ ہر انسان کے چہرے پہ مسکان کھل سکے سدا!

ہم نے تو اپنے قلم کو عوامی شعور کا پرچم بنایا

تا کہ جہالت اور ناانصافی کا اندھیرا مٹ سکے سدا!

خاطرؔ فلاح و بہبود کا یہ سویرا ضرور طلوع ہو گا

جس سے سارا گلشن جگمگا سکے سدا!

Subh-e-Nau Ka Suraagh Dhoondte Hain Hum Khatir

Ta Ke Har Insaan Ke Chehre Pe Muskaan Khil Sake Sada!

Hum Ne To Apne Qalam Ko Awaami Shaoor Ka Parcham Banaya

Ta Ke Jahaalat Aur Na-Insaafi Ka Andhera Mit Sake Sada!

غزل Urdu
Comment
خاطر غزنوی
تعارفِ شاعر

خاطر غزنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 نومبر 1925 — 7 جولائی 2008 📍 پشاور، خیبر پختونخوا، پاکستان

پروفیسر محمد ابراہیم المعروف خاطرؔ غزنوی (25 نومبر 1925ء – 7 جولائی 2008ء) جدید ہندکو ادب کے بانی، اردو غزل و نظم کے عظیم استاد، ممتاز محقق، ماہرِ لسانیات اور اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے سابق...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے