شاعری ہب / غزل / خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Khatir

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے

کہ روح کی صدا کو دبایا نہیں جا سکتا سدا!

ہم نے تو سچائی کے لیے ہر آزمائش کو سہا

پر حق کے راستے سے قدم ہٹایا نہیں جا سکتا سدا!

خاطرؔ خودداری کا یہ سفر سدا تابندہ رہے گا

جسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا سدا!

Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai

Ke Rooh Ki Sada Ko Dabaya Nahin Ja Sakta Sada!

Hum Ne To Sacchayi Ke Liye Har Aazmaayish Ko Saha

Par Haq Ke Raaste Se Qadam Hataya Nahin Ja Sakta Sada!

غزل Urdu
Comment
خاطر غزنوی
تعارفِ شاعر

خاطر غزنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 نومبر 1925 — 7 جولائی 2008 📍 پشاور، خیبر پختونخوا، پاکستان

پروفیسر محمد ابراہیم المعروف خاطرؔ غزنوی (25 نومبر 1925ء – 7 جولائی 2008ء) جدید ہندکو ادب کے بانی، اردو غزل و نظم کے عظیم استاد، ممتاز محقق، ماہرِ لسانیات اور اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے سابق...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے