شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب
Shuur O Hosh O Khirad ka Moamla Hai Ajib
شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب
مقام شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب
میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا
مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب
اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف
مری نوا میں نہیں طائر چمن کا نصیب
سنا ہے میں نے سخن رس ہے ترک عثمانی
سنائے کون اسے اقبالؔ کا یہ شعر غریب
سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا
ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب
Shu'ur O Hosh O Khird Ka Moaamla Hai Ajeeb
Maqam-E-Shauq Mein Hain Sab Dil O Nazar Ke Raqeeb
Main Jaanta Hoon Jama'at Ka Hashr Kya Hoga
Masa'il-E-Nazri Mein Uljh Gaya Hai Khateeb
Agarche Mere Nasheman Ka Kar Raha Hai Tawaf
Meri Nawa Mein Nahin Tair-E-Chaman Ka Naseeb
Suna Hai Main Ne Sukhan-Ras Hai Turk-E-Usmani
Sunaye Kaun Use 'Iqbal' Ka Ye Sher-E-Ghareeb
Samajh Rahe Hain Wo Europe Ko Hum-Jawaar Apna
Sitare Jin Ke Nasheman Se Hain Ziyada Qareeb
علامہ اقبال
علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...
