شاعری ہب / غزل / شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب

Shuur O Hosh O Khirad ka Moamla Hai Ajib

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب

مقام شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب

میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا

مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب

اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف

مری نوا میں نہیں طائر چمن کا نصیب

سنا ہے میں نے سخن رس ہے ترک عثمانی

سنائے کون اسے اقبالؔ کا یہ شعر غریب

سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا

ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب

Shu'ur O Hosh O Khird Ka Moaamla Hai Ajeeb

Maqam-E-Shauq Mein Hain Sab Dil O Nazar Ke Raqeeb

Main Jaanta Hoon Jama'at Ka Hashr Kya Hoga

Masa'il-E-Nazri Mein Uljh Gaya Hai Khateeb

Agarche Mere Nasheman Ka Kar Raha Hai Tawaf

Meri Nawa Mein Nahin Tair-E-Chaman Ka Naseeb

Suna Hai Main Ne Sukhan-Ras Hai Turk-E-Usmani

Sunaye Kaun Use 'Iqbal' Ka Ye Sher-E-Ghareeb

Samajh Rahe Hain Wo Europe Ko Hum-Jawaar Apna

Sitare Jin Ke Nasheman Se Hain Ziyada Qareeb

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے