شاعری ہب / نظم / شہر اور تنہائی

شہر اور تنہائی

Shehar-Aur-Tanhaayi-Nazm-Badr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شہر کے شور میں جب دل اکیلا ہو جاتا ہے

تو شاعری کے دامن میں سکون کی پناہ ملتی ہے!

ہم نے تو مصنوعی رشتوں کی حقیقت کو پہچانا

جہاں خلوص اور سچائی ہی سب سے بڑی دولت ملتی ہے!

بشیرؔ دانائی کا یہ پیغام سدا زندہ رہے گا

جس سے انسانی رشتوں کو نئی بالیدگی ملتی ہے!

Shahr Ke Shor Mein Jab Dil Akela Ho Jaata Hai

To Shaaeri Ke Daaman Mein Sukoon Ki Panaah Milti Hai!

Hum Ne To Masnooyi Rishton Ki Haqeeqat Ko Pehchaana

Jahan Khaloos Aur Sacchayi Hi Sab Se Badi Daulat Milti Hai!

Bashir Daanayi Ka Yeh Paighaam Sada Zinda Rahe Ga

Jis Se Insaani Rishton Ko Nayi Baaleedagi Milti Hai!

نظم Urdu
Comment
ڈاکٹر بشیر بدر
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر بشیر بدر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 15 فروری 1935 📍 کانپور / ایودھیا / بھوپال، بھارت

سید محمد بشیر المعروف ڈاکٹر بشیرؔ بدر (پیدائش: 15 فروری 1935ء، کانپور / ایودھیا، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے سب سے رومانی، سحر انگیز اور دلوں کو چھو لینے والے شاعراں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے