شاعری ہب / نظم / شام کا سورج

شام کا سورج

Sham ka Sooraj Nazm Khatir

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شام کا سورج گواہی دیتا ہے اس سچائی کی

کہ اندھیروں کے بعد صبحِ نو کا سویرا ضرور پھوٹے گا!

ہم نے جو بوئے تھے سچائی اور امن کے گلاب

ان کا ثمر اب ہر انسان پائے گا!

خاطرؔ عزم و وفا کا یہ راستہ کبھی نہ رکے گا

جس سے انسانیت کا مقدر سنورے گا!

Shaam Ka Sooraj Gawaahi Deta Hai Is Sacchayi Ki

Ke Andheron Ke Baad Subh-e-Nau Ka Sawera Zaroor Phoote Ga!

Hum Ne Jo Boye The Sacchayi Aur Amn Ke Gulaab

Un Ka Samar Ab Har Insaan Paaye Ga!

Khatir Azm-o-Wafa Ka Yeh Raasta Kabhi Na Ruke Ga

Jis Se Insaaniyat Ka Muqaddar Sanwre Ga!

نظم Urdu
Comment
خاطر غزنوی
تعارفِ شاعر

خاطر غزنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 نومبر 1925 — 7 جولائی 2008 📍 پشاور، خیبر پختونخوا، پاکستان

پروفیسر محمد ابراہیم المعروف خاطرؔ غزنوی (25 نومبر 1925ء – 7 جولائی 2008ء) جدید ہندکو ادب کے بانی، اردو غزل و نظم کے عظیم استاد، ممتاز محقق، ماہرِ لسانیات اور اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے سابق...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے