شاعری ہب / نظم / شبِ تاریک و خاموشی

شبِ تاریک و خاموشی

Shab-e-Taareek-o-Khamoshi Safi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شبِ تاریک کے سناٹے میں جب دل کی صدا گونجتی ہے

تو کائنات کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھتا ہے!

ہم نے تو راتوں کے اندھیروں میں بھی لکھی ہے سچائی

جس پر آنے والی صبح کا سورج فخر کرتا ہے!

صفیؔ فکر و تخیل کی یہ پرواز سدا رہے گی

جس نے ادب کے افق کو نیا رنگ دیا ہے!

Shab-e-Taareek Ke Sannaate Mein Jab Dil Ki Sada Goonjti Hai

To Kaayenaat Ke Posheeda Raazon Se Parda Uthta Hai!

Hum Ne To Raaton Ke Andheron Mein Bhi Likhi Hai Sacchayi

Jis Par Aane Wali Subh Ka Sooraj Fakhr Karta Hai!

نظم Urdu
Comment
ابنِ صفی
تعارفِ شاعر

ابنِ صفی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 26 جولائی 1928 — 26 جولائی 1980 📍

اسرار احمد المعروف ابنِ صفیؔ (26 جولائی 1928ء – 26 جولائی 1980ء) برصغیر پاک و ہند کے سب سے عظیم جاسوسی ناول نگار (خالقِ فریدی، حمید اور علی عمران) ہونے کے ساتھ ساتھ اردو غزل...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے