شاعری ہب / نظم / شادی کا ڈھول (گھریلو و سماجی مزاح)

شادی کا ڈھول (گھریلو و سماجی مزاح)

Shaadi ka Dhol Zarif Jabalpuri

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شادی کا ڈھول بجا تھا تو بڑی دھوم مچی

دولہا مسرور تھا، سسرال میں جھوم مچی!

سال گزرا تو وہی دولہا پریشان ملا

کہنے لگا کہ مری قسمت میں یہ کیسی شامت مچی!

ظریفؔ شادی کے لڈو جو کھائے وہ پچھتائے

جو نہ کھائے وہ بھی حسرت میں گنوائے!

Shaadi Ka Dhol Baja Tha To Badi Dhoom Machi

Dulha Masroor Tha, Sasuraal Mein Jhoom Machi!

Saal Guzra To Wohi Dulha Pareshan Mila

Kehne Laga Ke Meri Qismat Mein Yeh Kaisi Shaamat Machi!

Zarif Shaadi Ke Laddu Jo Khaaye Woh Pachhtaaye

Jo Na Khaaye Woh Bhi Hasrat Mein Ganwaaye!

نظم Urdu
Comment
ظریف جبل پوری
تعارفِ شاعر

ظریف جبل پوری

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1913ء – 1964ء 📍 جبل پور، مدھیہ پردیش، برطانوی ہندوستان

سید ظریف حسین رضوی المعروف 'ظریف جبل پوری' (1913ء – 1964ء، جبل پور / کراچی) اردو مزاحیہ شاعری کے نامور استاد اور کلاسیکی اسلوب کے باکمال طنز نگار تھے۔ انہوں نے تقسیم کے بعد کراچی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے