شاعری ہب / غزل / رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا

Rukhsat Hua to Aankh Mila Kar Nahin Gaya Ghazal Majrooh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا

وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا

ہم نے تو چاہا تھا بانہوں کا سہارا دینا

پر وہ دامن بھی اپنا چھڑا کر نہیں گیا

مجروحؔ اس دلِ ناداں کا کیا کریں گے اب

جو اپنی ہر حسیں تمنا گنوا کر نہیں گیا

Rukhsat Hua To Aankh Mila Kar Nahin Gaya

Woh Kyun Gaya Hai Yeh Bhi Bata Kar Nahin Gaya

Hum Ne To Chaaha Tha Baahon Ka Sahara Dena

Par Woh Daaman Bhi Apna Chhada Kar Nahin Gaya

غزل Urdu
Comment
مجروح سلطان پوری
تعارفِ شاعر

مجروح سلطان پوری

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1 اکتوبر 1919 — 24 مئی 2000 📍

اسرار الحق خان المعروف مجروح سلطان پوری (1 اکتوبر 1919ء – 24 مئی 2000ء) اردو غزل کی کلاسیکی نزاکت اور ترقی پسند شعور کے عظیم ترین نمائندے اور برصغیر کی سینما تاریخ کے سب سے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے