شاعری ہب / نظم / رات اور ریل (شاہکار تمثیلی نظم)

رات اور ریل (شاہکار تمثیلی نظم)

Raat aur Rail Nazm Majaz Lakhnawi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دوڑتی ہے جس طرح دھڑکن دلِ بے تاب کی

رات کی تاریکیوں میں ریل یوں آگے بڑھی!

آگ اگلتی، شور کرتی، کوہ و صحرا چیرتی

جیسے انسان کا نیا عزمِ حریت ہے لگی!

مجازؔ ترقی اور حرکت ہی زندگی کا نام ہے

جو ہر منزل کو مسافر کا سلام ہے!

Daudti Hai Jis Tarah Dhadkan Dil-e-Be-Taab Ki

Raat Ki Taareekiyon Mein Rail Yun Aage Badhi!

Aag Ugalti, Shor Karti, Koh-o-Sehra Cheerti

Jaise Insaan Ka Naya Azm-e-Hurriyat Hai Lagi!

نظم Urdu
Comment
اسرار الحق مجاز لکھنوی
تعارفِ شاعر

اسرار الحق مجاز لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 19 اکتوبر 1911 — 5 دسمبر 1955 📍

اسرار الحق خان المعروف مجازؔ لکھنوی (19 اکتوبر 1911ء – 5 دسمبر 1955ء) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے پرکشش، رومان پرور، کیف آور اور نوجوان نسل کے محبوب ترین شاعر تھے جنہیں ناقدین...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے