شاعری ہب / نظم / اندھیری رات کا مسافر

اندھیری رات کا مسافر

Andheri Raat ka Musafir Nazm Majaz

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اندھیری رات کا مسافر تنہا چلا جاتا ہے

ستاروں سے اپنے دکھوں کی داستان سناتا ہے!

نہ کوئی ہم سفر ہے نہ کوئی چراغِ راہگزر

پر سینے کا شعلہ اسے منزل کا راستہ دکھاتا ہے!

مجازؔ جنوں کی اس وادی میں پیچھے نہ ہٹیں گے

جہاں سچ کا پروانہ ہر اندھیرے کو مٹاتا ہے!

Andheri Raat Ka Musafir Tanha Chala Jaata Hai

Sitaaron Se Apne Dukhon Ki Daastaan Sunaata Hai!

Na Koi Hum-Safar Hai Na Koi Chiraagh-e-Rehguzar

Par Seene Ka Shola Use Manzil Ka Raasta Dikhata Hai!

نظم Urdu
Comment
اسرار الحق مجاز لکھنوی
تعارفِ شاعر

اسرار الحق مجاز لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 19 اکتوبر 1911 — 5 دسمبر 1955 📍

اسرار الحق خان المعروف مجازؔ لکھنوی (19 اکتوبر 1911ء – 5 دسمبر 1955ء) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے پرکشش، رومان پرور، کیف آور اور نوجوان نسل کے محبوب ترین شاعر تھے جنہیں ناقدین...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے