شاعری ہب / نظم / قصیدۂ بہاریہ (شاہکار کلاسیکی قصیدہ)

قصیدۂ بہاریہ (شاہکار کلاسیکی قصیدہ)

Qasida-e-Bahaariya Dar Shaan-e-Shah Zauq

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شب کو میں اپنے سرِ بسترِ خوابِ راحت

دیکھتا کیا ہوں کہ ہے بزمِ جہاں پر رونق!

نو بہار آئی ہے اور کھل گئے پھول سارے

سارے گلشن میں ہے بادِ صبا کا مکھڑا روشن!

ذوقؔ اس طرزِ بیاں کی نہیں کوئی نظیر

جس پہ فخر کرتے ہیں دہلی کے تمام سخنور!

Shab Ko Main Apne Sar-e-Bistar-e-Khwab-e-Raahat

Dekhta Kya Hoon Ke Hai Bazm-e-Jahan Par Raunaq!

Nau Bahaar Aayi Hai Aur Khil Gaye Phool Saare

Saare Gulshan Mein Hai Baad-e-Saba Ka Mukhda Roshan!

نظم Urdu
Comment
شیخ محمد ابراہیم ذوق
تعارفِ شاعر

شیخ محمد ابراہیم ذوق

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 اگست 1789 — 16 نومبر 1854 📍

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ (22 اگست 1789ء – 16 نومبر 1854ء) اردو زبان کے سب سے پرشکوہ، فصیح البیان اور قادر الکلام کلاسیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہیں قلعۂ معلیٰ دہلی میں 'ملک الشعراء'...

شیخ محمد ابراہیم ذوق کا مزید کلام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے