شاعری ہب / نظم / قلندر کی پہچان

قلندر کی پہچان

Qalandar Kii Pahchaan – Ghara-e-Shawal Ay Noor Nigah Roza Dar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کہتا ہے زمانے سے يہ درويش جواں مرد

جاتا ہے جدھر بندئہ حق، تو بھي ادھر جا!

ہنگامے ہيں ميرے تري طاقت سے زيادہ

بچتا ہوا بنگاہ قلندر سے گزر جا

ميں کشتي و ملاح کا محتاج نہ ہوں گا

چڑھتا ہوا دريا ہے اگر تو تو اتر جا

توڑا نہيں جادو مري تکبير نے تيرا؟

ہے تجھ ميں مکر جانے کي جرات تو مکر جا!

مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر

ايام کا مرکب نہيں، راکب ہے قلندر

Kehta Hai Zamane Se Ye Darvesh-e-Jawan Mard

Jata Hai Jidhar Banda-e-Haq, Tu Bhi Udhar Ja

Hangame Hain Mere Teri Taqat Se Zaida

Bachta Huwa Bunigah-e-Qalandar Se Guzar Ja

Main Kashti-O-Mallah Ka Mauhtaj Na Hun Ga

Charhta Huwa Darya Hai Agar Tu To Utar Ja

Torha Nahin Jadoo Meri Takbeer Ne Tera

Hai Tujh Mein Mukar Jane Ki Jurrat To Mukar Ja

Meher-O-Mah-O-Anjum Ka Mahasib Hai Qalandar

Ayyam Ka Markab Nahin, Rakin Hai Qalandar

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے