پھول مرجھا کے بھی خوشبو تو نہیں چھوڑتے
Phool Murjha ke bhi Khushbu to Nahin Chhodte
پھول مرجھا کے بھی خوشبو تو نہیں چھوڑتے
ہم فقیر اپنے ارادوں کو نہیں توڑتے
تو نے تو چھوڑ دیا ہم کو زمانے کے لیے
ہم تری یاد کے دامن کو نہیں چھوڑتے
ساغرؔ اس خاک نشیں کا ہے مقدر کیسا
ہم کبھی سچ کے چراغوں کو نہیں چھوڑتے
Phool Murjha Ke Bhi Khushbu To Nahin Chhodte
Hum Faqeer Apne Iraadon Ko Nahin Todte
Tu Ne To Chhod Diya Hum Ko Zamane Ke Liye
Hum Teri Yaad Ke Daaman Ko Nahin Chhodte
غزل
تعارفِ شاعر
ساغر صدیقی
محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...
