شاعری ہب / غزل / پھول مرجھا کے بھی خوشبو تو نہیں چھوڑتے

پھول مرجھا کے بھی خوشبو تو نہیں چھوڑتے

Phool Murjha ke bhi Khushbu to Nahin Chhodte

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

پھول مرجھا کے بھی خوشبو تو نہیں چھوڑتے

ہم فقیر اپنے ارادوں کو نہیں توڑتے

تو نے تو چھوڑ دیا ہم کو زمانے کے لیے

ہم تری یاد کے دامن کو نہیں چھوڑتے

ساغرؔ اس خاک نشیں کا ہے مقدر کیسا

ہم کبھی سچ کے چراغوں کو نہیں چھوڑتے

Phool Murjha Ke Bhi Khushbu To Nahin Chhodte

Hum Faqeer Apne Iraadon Ko Nahin Todte

Tu Ne To Chhod Diya Hum Ko Zamane Ke Liye

Hum Teri Yaad Ke Daaman Ko Nahin Chhodte

غزل
Comment
ساغر صدیقی
تعارفِ شاعر

ساغر صدیقی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1928 — 19 جولائی 1974 📍

محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے