شاعری ہب / نعت / نورِ ازل کا اجالا ہے درِ اقدس پر

نورِ ازل کا اجالا ہے درِ اقدس پر

Noor-e Azal ka Ujala Hai Dar-e Aqds par

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

نورِ ازل کا اجالا ہے درِ اقدس پر

رحمتِ باری کا نزول ہے مرقدِ انور پر

گنبدِ سبز کی دید سے چمکی ہے بصیرت

انوار کی برسات ہے روضے کی چادر پر

شاہِ دوسرا کے دربار کا بھکاری ہوں میں

جس کے جود پہ پلتا ہے زمانہ سراسر پر

حشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی

دامنِ رحمت سایہ فگن ہو گا محشر پر

مظفرؔ نعت خوانی کا شرف سلامت رہے

کہ چمکا ہے مرا بخت اس مدح کے محور پر

Noor-e azal ka Ujala hai Dar-e aqds par

Rehmat-e Baari ka nzol hai mrqd-e anor par

Gumbad-e Sabz ki did se Chamki hai bsirt

Anoar ki barsat hai Rauze ki Chadar par

Shah-e dusra ke darbar ka bhkari hoon mein

Jis ke jod pe plta hai zamana sarasar par

Hashr ke tptey Din mein Shafa'at mile gi

Daman-e Rehmat saaya fgn ho Ga Mahshar par

Mzfr naat khoani ka shrf salamat rhey

Ke chamka hai Mara bakht Is mdh ke mihvar par

نعت
Comment
مظفر وارثی
تعارفِ شاعر

مظفر وارثی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1933ء – 2011ء 📍 میرٹھ، برطانوی ہندوستان / لاہور

محمد مظفر الدین صدیقی المعروف 'مظفر وارثی' (23 دسمبر 1933ء – 28 جنوری 2011ء، میرٹھ / لاہور) اردو زبان کے عظیم ترین نعت گو، حمد نگار اور لازوال نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے دربارِ وارثیہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے