شاعری ہب / نظم / مسلمان کا زوال

مسلمان کا زوال

Musalman ka Zawal – Agarchy Zar bhi Hy Jahan Main Hy

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اگرچہ زر بھي جہاں ميں ہے قاضي الحاجات

جو فقر سے ہے ميسر، تو نگري سے نہيں

اگر جواں ہوں مري قوم کے جسور و غيور

قلندري مري کچھ کم سکندري سے نہيں

سبب کچھ اور ہے، تو جس کو خود سمجھتا ہے

زوال بندہ مومن کا بے زري سے نہيں

اگر جہاں ميں مرا جوہر آشکار ہوا

قلندري سے ہوا ہے، تو نگري سے نہيں

Musalman Ka Zawal

The Decline Of The Muslims

Agarcha Zar Bhi Jahan Mein Hai Qazi-Ul-Hajat

Jo Faqar Se Hai Mayassar, Toungari Se Nahin

Agar Jawan Hon Meri Qoum Ke Jasoor-o-Ghayyoor

Qalandari Meri Kuch Kam Sikandari Se Nahin

Sabab Kuch Aur Hai, Tu Jis Ko Khud Samajhta Hai

Zawal Banda-e-Momin Ka Be-Zarri Se Nahi

Agar Jahan Mein Jouhar Aashkara Huwa

Qalandari Se Huwa Hai, Toungari Se Nahin

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے