شاعری ہب / نعت / مجھے کچھ خوف عصیاں کا نہیں ہے

مجھے کچھ خوف عصیاں کا نہیں ہے

Mujhe Kuchh Khauf Isyaan Kaa Nahin Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مجھے کچھ خوف عصیاں کا نہیں ہے

کہ حضرت سا شفیع المذنبیں ہے

مزار پاک ہے آنکھوں سے نزدیک

عجب یہ چشم بینا دوربیں ہے

زمیں ہے آسماں بھی اس کے آگے

عجب برتر مدینے کی زمیں ہے

ہوا ہے نقش جب سے نام حضرت

مرا دل بھی سلیماں کا نگیں ہے

گناہوں سے نہیں محشر میں کچھ خوف

کہ حامی رحمۃ اللعالمیں ہے

بڑی کہیے امیرؔ اس میں غزل کیا

ذرا سی بحر چھوٹی سی زمیں ہے

Mujhe Kuch khauf Isyaan ka nahin hai

Ke hazrat Sa shfia almznbin hai

Mzar pak hai Aankhon se nazdik

Ajab yeh Chashm bina dorbin hai

Zameen hai Aasman bhi Is ke aage

Ajab brtr Madine ki Zameen hai

Hua hai nqsh jab se Naam hazrat

Mara Dil bhi sliman ka ngin hai

Gunaahon se nahin Mahshar mein Kuch khauf

Ke hami rhmۃ allaalmin hai

Bari khiey amir Is mein ghazal kiya

Zara si bahr chhoti si Zameen hai

نعت Urdu
Comment
امیر مینائی
تعارفِ شاعر

امیر مینائی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1828 — 1900 📍 لکھنؤ، انڈیا

مشہور و معروف شاعر و ادیب تھے۔ وہ 1828ء میں شاہ نصیر الدین شاہ حیدر نواب اودھ کے عہد میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ امیر احمد نام مولوی کرم محمد کے بیٹے اور مخدوم شاہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے